سیرت احمد

by Other Authors

Page 64 of 131

سیرت احمد — Page 64

115 114 افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذِبَ بِآيَاتِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ (۱۸) یونس ع۲) خدا تعالیٰ نے تو مجھے اس زمانہ کے لئے درخت بنا کر بھیجا ہے۔میں ایمان کا درخت ہوں۔پھل بغیر درخت کے نہیں ہو تا۔اگر کوئی پھل درخت سے کاٹا جاتا ہے تو وہ خشک ہو جاتا ہے۔i حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے یا انسان عارف بنے یا دین العجائیز رکھے۔ان دنوں صورتوں کے متعلق حضور اپنے عمل درآمد سے ثبوت دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گل محمد عیسائی پشاور سے آیا۔اس نے کچھ اعتراض کئے۔اسی طرح جو لوگ مجھ سے کاٹے جائیں گے وہ خشک ہو جائیں گے۔جو میرا حضور نے جواب دیئے۔اثناء گفتگو میں اس نے کہا۔حضور سختی کرتے ہیں۔انکار کرتا ہے وہ تمام انبیاء کا انکار کرتا ہے۔ایات ۵۰ الہ دین المعروف فلاسفر حضور نے فرمایا کہ کیا میں یسوع سے زیادہ سختی کرتا ہوں جو اپنے وقت کے فقیہوں، فریسوں کو کبھی سانپ کے بچے کبھی سوروں کے بچے کہتا۔کبھی کہتا کسبیاں تم سے پہلے خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں گی۔مجاہدات تو گویا حضور کی عادت ہو گئے تھے رات کو کثرت سے تصنیف کا کام کرتے تھے اور اندر مہمان عورتوں کو نصائح وغیرہ فرماتے رہتے تھے۔ہر ایک کے سوالوں کا جواب دیتے۔ہر ایک کی عرضیوں پر غور فرماتے اور وافل اس کثرت سے رو رو کر اتنی دیر تک پڑھتے کہ حضور تھک جاتے تھے۔الہ دین فلاسفر ( یہ نام اصل میں علاء الدین ہے۔پنجابی میں الہ دین پکارتے ہیں) نے بیان کیا کہ ہمارے گاؤں کا ایک ملاں قادیان میں آیا اور اس نے حضرت صاحب سے وظیفہ دریافت کیا حضور نے فرمایا کہ استغفار کا ترجمہ اپنی مادری زبان میں پڑھا کرو۔اس نے گاؤں میں جاکر ٹھٹھہ اڑایا کہ سیہ وظیفہ بتایا ہے۔میں نے سن کر یہ پڑھنا شروع کر دیا۔اور اس کے بعد خدا کے بڑے بڑے فضل مجھ پر ہوئے۔مجھے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی روایت ۵۱ توفیق ملی اور استقامت ملی اور وہ بد بخت ٹھٹھا کر کے محروم رہ گیا۔قریباً ۱۸۹۵ء کا ذکر ہے کہ حضور نے اپنے ایک ملازم کرم داد کو فرمایا۔تمہارے کپڑے میلے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ حضور کو صفائی کا کتنا خیال رہتا تھا وَ صَدَقَ الله تعالى - إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِرِين) اس سے اعتراض پڑتا ہے۔حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ایک دن فجر کے وقت رمضان کے مہینہ میں میں مسجد مبارک میں گیا۔میں نے صبح کی اذان کہی۔حضرت صاحب اندر سے تشریف لائے۔حضور تشریف فرما رہے اور میں اذان کہتا رہا۔جب اذان کہہ چکا تو حضور نے فرمایا۔تم نے اذان کے لئے جلدی کی میں نے تو ابھی سحری نہیں کھائی۔میں