سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 76
سيرة النبي علي 76 جلد 4 بھی انسانی ہاتھ کی دخل اندازی صاف ظاہر تھی لیکن میں نے دیکھا کہ آسمانی نور کی روشنی اس قدر درخشاں تھی کہ کوئی نابینا ہی اس کے دیکھنے سے قاصر رہے تو رہے۔پھر میں نے انجیل کی طرف نگاہ کی اور اسے گو میں ایک کتاب تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ مسیح کے اقوال اور تعلیمیں اس میں بہت ہی کم نقل تھیں، زیادہ تر اس کے کارناموں پر روشنی ڈالی گئی تھی ، لیکن پھر بھی اس میں روحانیت کی جھلک تھی اور جو تھوڑی سی تعلیم مسیح کی طرف منسوب کر کے اس میں لکھی گئی تھی وہ نہایت اعلیٰ اور دلکش تھی۔اس کتاب میں سزا اور جزا کی جگہ محبت اور رحم پر زیادہ زور تھا اور انسان کی ذاتی تکمیل کی جگہ آسمانی امداد پر انحصار رکھا گیا تھا۔بدھ کی طرح تو کل کا مظاہرہ تو نہ تھا لیکن مشکلات کے وقت خدا تعالیٰ کی امداد پر ضرور زور دیا گیا تھا۔اس کتاب سے خود ہی ظاہر تھا کہ مسیح گو ایک ملہم من اللہ تھے لیکن شریعتِ جدیدہ کے حامل نہ تھے اور گوان کے الہامات اس میں مذکور نہ تھے لیکن جو کچھ حصہ الہامات کا اس میں مذکور تھا وہ لطیف اور اللہ تعالیٰ کی شان کا ظاہر کرنے والا تھا اور ایک ادنی نظر سے اس کے الہامی ہونے کا علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔میں نے ایک خوشی کا سانس لیا اور کہا جس طرح خدا تعالیٰ کا مجازی نور اس کے مادی عالم کی ہر شے سے ظاہر ہے اسی طرح اس کا حقیقی نور اس کے روحانی عالم کی ہر شے سے ظاہر ہے۔میں نے کہا گو نبی فوت ہو چکے ہیں مگر یہ کتب اپنے حسن دلکش کی وجہ سے ضرور لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہوں گی اور یہ باغ روحانی کے مختلف پودے ضرور یکجا جمع ہو کر دنیا کی روحانی کوفت کو دور کرتے اور اس کی اخلاقی افسردگی کو مٹاتے ہوں گے۔مگر میری حیرت کی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ باوجود آنکھوں کے سامنے ان روحانی جواہرات کی موجودگی کے ہر اک یہی شور مچا رہا تھا کہ میرے پاس تو قیمتی ہیرے ہیں اور دوسروں کے پاس بے قیمت پتھر۔میں نے کہا خدایا! ان عقل کے اندھوں کو کیا ہو گیا جو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے۔کیا دنیا سے انصاف مٹ گیا ہے؟ کیا انسان اپنی روحانیت کی نمائش گزشتہ ایام