سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 77

سيرة النبي عمال 77 جلد 4 میں کر چکا اور اب بالکل کھوکھلا ہو گیا ہے؟ کیا یہ دنیا جو کسی وقت خدا کا تخت گاہ کہلاتی تھی اب محض شیطان کی چوگان بازی کے لئے رہ گئی ہے؟ میں اسی فکر میں تھا کہ پھر وہی دلوں کو پاک اور دماغوں کو منور کر دینے والی آواز بلند ہوئی اور اس نے کہا کہ ہمارا یہ مسلک نہیں کہ دوسروں کی قبروں پر اپنا محل بنا ئیں۔جوحسن کو نہیں دیکھتا وہ اندھا ہے۔بیشک گزشتہ کتب میں انسانی دست بُرد نے تغیر کر دیا ہے لیکن پھر بھی ان کا منبع الہی علم ہے اور ہماری آواز ان کی مصدق ہے اور ان کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی شہادت دیتی ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے علاوہ اور مقاصد کے اس مقصد کے لئے بھی مبعوث فرمایا ہے کہ ہم تمام خدا تعالیٰ کی کتب کی تصدیق کریں اور ان کی سچائی کو ثابت کریں تا اللہ تعالیٰ پر ظلم کا الزام نہ لگے اور تا حسن کو دیکھ کر اس کا انکار کرنے والے روحانی نابینائی کے مرض میں مبتلا نہ کئے جاویں۔نادان انسان ان کتب کی صداقت کا کس طرح انکار کر سکتا ہے جو غیب پر مشتمل ہیں اور جن کی صداقت پر آئندہ زمانہ کی پیشگوئیاں کر کے اور خصوصاً ہمارے زمانہ کی خبر دے کر خدا تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے۔کوئی انسان نہیں جس کو غیب کا علم ہو اور یہ کتب تو غیب کے خزانوں سے بھری ہوئی ہیں اور یہ بھی تو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ ان میں انسانی ملاوٹ ہے وہ تو حید کی تعلیم کو خاص طور پر پیش کرتی ہیں حالانکہ شیطانی کلام خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم ہیں کیا کرتا۔اس آواز کو سن کر میرے دل کی گرہیں کھل گئیں ، میری پریشانی دور ہو گئی اور میرے دل سے ایک آہ نکلی اور میں نے کہا یہ آواز گزشتہ کتب کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔انسانی ضمیر کے لئے رحمت جب میں نے دیکھا کہ سب قوموں میں نبی گزرے ہیں اور سب ہی کے پاس شمع ہدایت موجود ہے جس کے ذریعہ سے اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا کامل نور پا سکتے ہیں تو میں نے کہا کہ باوجود اس حسد اور بغض کے جو مختلف قوموں کو دوسرے مذاہب کے بزرگوں اور کتب سے