سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 61
سيرة النبي علي 61 جلد 4 کیونکہ شریعت پاک نہیں نا پاک کرتی ہے۔حکم فرمانبردار نہیں نا فرمان بناتا ہے۔کون ہے جو تمام حکموں پر عمل کر سکتا ہے؟ اور جس نے ایک ادنی سے حکم کی بھی نافرمانی کی وہ باغی بن گیا۔کیا عمدہ سے عمدہ شے کو ایک قطرہ ناپاکی کا ناپاک نہیں کر دیتا ؟ پھر تم کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ تم پاک ہو یا پاک ہو سکتے ہو؟ کیا تم کو یاد نہیں کہ تمہارے باپ آدم نے گناہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو بھول گیا اور شیطان نے اس کو اور اس کی بیوی حوا کو جو تمہاری ماں تھی ورغلایا اور گنہگار کر دیا ؟ 10 تم جو ان کی اولاد ہوکس طرح خیال کر سکتے ہو کہ ان کے گناہ کے ورثہ سے حصہ نہ لو گے؟ کیا تم امید کرتے ہو کہ ان کی دولت پر تو قابض ہو جاؤ اور ان کے قرضے ادا نہ کرو؟ ان کی نیکیاں تو تم کو مل جائیں اور ان کے گناہ میں تم حصہ دار نہ بنو؟ اور جب گناہ تم کو ورثہ میں ملا ہے تو تم اس ورثہ کی لعنت سے بچ کیونکر سکتے ہو؟ تم خیال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم کو معاف کر دے گا ؟ نادانو ! تم کو یاد نہیں کہ وہ رحم کرنے والا بھی ہے اور عدل کرنے والا بھی ؟ اس کا رحم اس کے عدل کے مخالف نہیں چل سکتا۔پس کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری خاطر اپنے عدل کو بھول جائے؟ میں نے دیکھا ان کی تقریروں میں مایوسی کی لہر اس قدر ز بر دست تھی کہ امیدوں کے پہاڑ کو اڑا کر لے گئی۔جو چہرے خوشیوں سے ٹمٹما رہے تھے حرمان و یاس سے پژمردہ ہو گئے۔دنیا اور اس کے باشندے ایک کھلونا اور وہ بھی شکستہ کھلونا نظر آنے لگے مگر ذرا سانس لے کر ان علماء نے پھر گرج کر لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا مگر تم مایوس نہ ہو کہ جہاں تمہاری امیدوں کو توڑا گیا ہے وہاں ان کے جوڑنے کا بھی انتظام موجود ہے اور جہاں ڈرایا گیا ہے وہاں بشارت بھی مہیا کی گئی ہے۔خدا کے عدل نے تم کو سزا دینی چاہی تھی مگر اس کے رحم نے تم کو بچا لیا اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا کہ تا وہ بے گناہ ہو کر صلیب پر لٹکایا جائے اور سچا ہو کر جھوٹا قرار پائے۔چنانچہ وہ مسیح کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوا اور یہود نے اسے بلا کسی گناہ کے