سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 62

سيرة النبي عمال 62 جلد 4 صلیب پر لٹکا دیا اور وہ تمام ایمان لانے والوں کے گناہ اٹھا کر ان کی نجات کا موجب ہوا 11 پس تم اس پر ایمان لاؤ وہ تمہارے گناہ اٹھا لے گا۔اس طرح خدا کا عدل بھی پورا ہوگا اور رحم بھی اور دنیا نجات پا جائے گی۔میں نے دیکھا کہ مایوسی پھر دور ہوگئی اور لوگ خوشیوں سے اچھلنے لگے اور ساری دنیا نے ایسی خوشی کی جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں ملتی اور لوگ آئے اور صلیب کو جو اُن کی نجات کا موجب ہوئی روتے ہوئے چمٹ گئے۔وہ بیتاب ہو کر کبھی اس کو بوسہ دیتے اور کبھی اس کو سینہ سے لگاتے اور ایک دیوانگی کے جوش سے انہوں نے اس چیز کا خیر مقدم کیا۔لیکن میں نے دیکھا کہ اس جوش کے سرد ہونے پر بعض لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے اور آپس میں کہتے تھے کہ یہ تو بے شک معلوم ہوتا ہے کہ گناہ سے انسان بچ نہیں سکتا لیکن امید کا پیغام کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔اگر خدا کے لئے عادل ہونا ضروری ہے تو اس کا بیٹا بھی ضرور عادل ہوگا اور اگر گناہ گار کے گناہ کو معاف کرنا عدل کے خلاف ہے تو بے گناہ کو سزا دینا بھی تو عدل کے خلاف ہے۔پھر کس طرح ہوا کہ خدا کے بیٹے نے دوسروں کے گناہ اپنے سر پر لے لئے اور خدا نے اس بے گناہ کو پکڑ کر سزا دے دی ؟ پھر انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ موت کو تو گناہ کی سزا بتایا گیا تھا جب گناہ نہ رہا تو موت کیونکر رہ گئی ؟ گناہ کے معاف ہونے پر موت بھی تو موقوف ہونی چاہئے تھی۔پھر بعض لوگوں نے کہا کہ ہم سے تو اب بھی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔اگر ورثہ کا گناہ دور ہو گیا تھا تو گناہ ہم سے باوجود بچنے کی کوشش کے کیوں ہو جاتا ؟ جب بعض دوسروں نے ان کو دلیری سے یہ کہتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے بھی اور ہم سے بھی ؟ پھر میں نے عالم خیال میں دیکھا کہ ان لوگوں نے کہا کہ خدا نے ہم کو کیوں پیدا کیا؟ انسانیت جو اس قدر اعلی شے سمجھی جاتی تھی کیسی ناپاک ہے؟ کس طرح گناہ سے اس کا بیج پڑا اور گناہ میں اس نے پرورش پائی اور گناہ ہی اس کی خوارک بنی اور گناہ ہی اس کا اوڑھنا اور بچھونا ہوا۔ایسی ناپاک شے کو وجود میں لانے کا مقصد کیا تھا؟ یہ جنت