سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 60

سيرة النبي علي 60 جلد 4 سے پشیمان ہو کر شرک و بدعت سے تو بہ کر کے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف دوڑ پڑے۔پھر دنیا خدا کے جلال کا ظہور گاہ بن گئی۔پھر کسی کی تجلیاں اس میں نظر آنے لگ گئیں اور میں نے ایک آہ بھر کر کہا کہ یہ آواز ہماری زمین کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔انسانیت کے لئے رحمت جب میں نے تمام مخلوقات میں سے انسان کی عبادتوں کو دیکھا اور اس کی غلطیوں کے ساتھ اس کی تو بہ پر نظر کی اور اس کی ناکامیوں کے ساتھ اس کی متواتر جدوجہد کا معائنہ کیا تو میرا دل خوشی سے اچھل پڑا اور میں نے کہا اس خوبصورت دنیا میں ایسی اچھی مخلوق کیسی بھلی معلوم دیتی ہے، کس طرح دل کھینچتی ہے۔مگر جب میں اس سرور سے متکلیف ہو رہا تھا یکدم میری نگہ چند لوگوں پر پڑی جنہوں نے سیاہ جیتے پہن رکھے تھے ، جن کی بڑی بڑی داڑھیاں اور موٹی موٹی تسبیجیں اور سنجیدہ شکلیں انہیں مذہبی علماء ثابت کر رہی تھیں ، ان کے گرد ایک جم گھٹا تھا کثرت سے لوگ ان کی باتوں کو سنتے اور ان سے متاثر ہوتے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کے اکثر لوگ ان کی توجہ کا شکار ہو چکے ہیں اور ہور ہے ہیں۔ان کے چہروں سے علم کے آثار ظاہر تھے اور ان کی باتوں سے درد اور محبت کی بو آتی تھی۔انہوں نے لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا کہ اے بد بخت انسانو! تم کیوں خوش ہو؟ آخر کس امید پر تم جی رہے ہو؟ کیا تم کو اس جہنم کے گڑھے کی خبر نہیں جو تمہارے آباء نے تمہارے لئے تیار کر رکھا ہے؟ وہ نہ بجھنے والی آگ جو گندھک سے بھڑک رہی ہے، وہ تاریکی جس کے سامنے اس دنیا کی تاریکیاں روشنی معلوم ہوتی ہیں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔پھر تم کیوں خوش ہو؟ تم کس منہ سے نجات کے طالب ہو اور تمہارا دل کس طرح اس کی تمنا کر سکتا ہے؟ تم نہیں سمجھتے کہ پاک اور نا پاک کا جوڑ نہیں؟ اور ماضی کا بدلنا کسی کے اختیار میں نہیں ؟ تم میں سے کون ہے جو کہے کہ وہ پاک ہے؟ اور خدا تعالیٰ سے ملنے کا مستحق ہے؟ اور تم میں سے کون ہے جو کہے کہ وہ پاک ہوسکتا ہے؟