سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 59

سيرة النبي علي 59 جلد 4 ہوتی جتنی کثرتِ رطوبت سے ، جتنی گندی نالیوں کے تعفن سے، بد روؤں کی غلاظت اور بے احتیاطی سے پھینکے ہوئے پانیوں سے۔غرض مجھے ہر شے میں اس کے پیدا کرنے والے کا حُسن نظر آنے لگا۔ہر ذرہ میں ازلی ابدی محبوب کی شکل نظر آنے لگی۔مگر ناگاہ میری نظر آبادیوں کی طرف اٹھ گئی اور میں نے دیکھا کہ لوگ ہاڑیوں ، درختوں ، پتھروں ، دریاؤں ، جانوروں کے آگے سجدے کر رہے ہیں اور مغز کو بھول کر چھلکے پر فدا ہورہے ہیں۔میری طبیعت منفض 7 ہوگئی اور میرا دل متنفر ہو گیا اور مجھے شیر، سانپ ، بچھو تو الگ رہا مصفی پانی میں بھی لاکھوں کیڑے نظر آنے لگے اور سبزہ زار مرغزاروں سے بھی سڑے ہوئے سبزے کی دماغ سوز بو آنے لگی اور میں نے دیکھا کہ یہ زمین تو ایک دن رہنے کے قابل نہیں۔مجھے یوں معلوم ہوا گویا یہاں کی ہر شے مردہ ہے اور اس کے نظارے ایک بدکار بڑھیا کی مانند ہیں کہ باوجود ہزاروں بناوٹوں اور تزئینوں کے اس کی بدصورتی اور بدسیرتی چھپ نہیں سکتی۔مگر میں اسی حالت میں تھا کہ پھر وہی آواز بلند ہوئی ، پھر وہی شیریں دل میں چبھ جانے والی آواز اونچی ہوئی اور اس نے کہا کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ انسان کے نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے 8۔اس کے پہاڑ اور اس کے دریا اور اس کے چرند اور اس کے پرند اور اس کے میوے اور اس کے غلے سب کا مقصود یہ ہے کہ انسان کے اعمال میں تنوع پیدا ہو اور وہ ان امانتوں کے بہترین استعمال سے اپنے پیدا کرنے والے کا قرب حاصل کرے۔اس زمین کی اچھی نظر آنے والی اور بظاہر بری نظر آنے والی سب اشیاء انسان کے لئے آزمائش ہیں۔پس مبارک ہے وہ جو ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کا قرب حاصل کرتا ہے۔اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ یوں معلوم ہوا گویا اس دنیا کے ذرہ ذرہ کے سر پر سے بوجھ اتر گیا۔یہی جہان ایک جنت نظر آنے لگا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اگلے جہان کی جنت اس جنت کا ایک تسلسل ہے اور کچھ بھی نہیں۔بہت سے لوگ جنہوں نے اس آواز کو سنا اپنی غلطیوں