سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 58

سيرة النبي عمال 58 جلد 4 بظاہر زیادہ ہے کیونکہ وہاں سے تو صرف روشنی آتی ہے اور یہاں روشنی کے علاوہ قسم قسم کے سبزے اور رنگ رنگ کے نظارے اور پھولوں سے ڈھنپی ہوئی بلند پہاڑیاں اور کلیلیں کرتی ہوئی ندیاں اور اچھلتے ہوئے چشمے اور سایہ دار وادیاں اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت اور پھولوں سے اٹی ہوئی جھاڑیاں اور لہلہاتے ہوئے کھیت اور غلوں سے بھرے ہوئے کھلیان اور چہچہاتے ہوئے پرندے اور ناز و رعنائی سے بھاگتے ہوئے چوپائے اور نہ معلوم کیا کیا کچھ بھرا پڑا ہے۔مجھے اس وقت زمین کچھ ایسی خوبصورت نظر آئی کہ درندوں اور وحوش اور سانپوں اور بچھوؤں اور دوسرے زہر یلے کیڑوں اور مچھروں اور طاعون کے چوہوں تک میں مجھے خوبصورتی ہی خوبصورتی نظر آنے لگی۔میں نے خیال کیا کہ شیر بے شک وحشی جانور ہے اور کبھی کبھی انسانوں کو چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے لیکن اگر شیر نہ ہوتا تو شیر افگن کہاں سے پیدا ہوتے۔اگر بہادر شیر انسانوں کی بہادری کی آزمائش کے لئے نہ ہوتا تو بہادری کی آزمائش کا یہی ذریعہ رہ جاتا کہ لوگ بنی نوع انسان پر حملہ کر کے اپنی شجاعت کی آزمائش کرتے اور یہ جانور تو زندہ ہی نہیں مر کر بھی ہمارے کام آتا ہے اس کی چربی اور اس کے ناخن اور اس کی کھال علاجوں اور زینت و زیبائش میں کیسی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔مجھے سانپ کے زہر سے زیادہ اس کے گوشت کے فوائد نظر آنے لگے اور میں نے کہا کہ اگر سانپ نہ ہوتا تو ہمارے اطبا قرص افعی کہاں سے ایجاد کرتے۔اور اگر بچھو نہ ہوتا تو یہ گردوں کی پتھریوں کے مریض آپریشن کے بغیر کس طرح آرام پاتے۔میں نے مچھر کو صرف کثرتِ رطوبت کا ایک الارم پایا۔بیچارا چھوٹا سا جانور کس طرح رات دن ہمیں بیدار کرتا اور بتاتا ہے کہ گھر میں نالیاں گندی رہتی ہیں، شہر کی بدروئیں میلے سے بھری رہتی ہیں، لوگ پانی جیسی نعمت یونہی ضائع کر رہے ہیں۔غرض رات دن ہمیں اپنے فرض سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔جب ہم ہوشیار ہی نہیں ہوتے اور ستی کا دامن نہیں چھوڑتے تو بیچارہ غصہ میں آ کر کاٹتا ہے۔بیماری اتنی مچھر سے پیدا نہیں