سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 57
سيرة النبي م 57 جلد 4 ان کے لباسوں پر گندے چھینٹے پڑ گئے تھے جسے دھونے والے نے دھو دیا۔میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا یہ آواز ان فرشتوں کے لئے بھی ایک رحمت ثابت ہوئی۔زمانہ کے لئے رحمت میری نظر یہاں سے اٹھ کر زمانہ کی طرف گئی۔میں نے کہا وقت کتنا لمبا ہے؟ کب سے یہ فرشتے کام کر رہے ہیں؟ کب سے سورج اور اس کے ساتھ کے سیارے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں؟ کون بتا سکتا ہے کہ زمانہ جو کچھ بھی ہے اس نے کس قدر تغیرات دیکھے ہیں؟ کس طرح اور کب سے یہ خوشی اور غم کا پیمانہ بنا رہا ہے؟ اگر وہ جاندار شے ہوتا تو ایک بے اندازہ زمانہ تک اللہ کی مخلوق کی خدمت میں لگا رہنے پر اسے کسی قد رفخر ہوتا۔میں اسی خیال میں تھا کہ مجھے زمانہ کے چہرہ پر بھی دو داغ نظر آئے۔مجھے کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ زمانہ غیر فانی ہے، زمانہ خدا تعالیٰ کی طرح ازلی ابدی ہے۔اور کچھ لوگ یہ کہتے سنائی دیئے کہ زمانہ ظالم ہے اس نے میرا فلاں رشتہ دار مار دیا زمانہ برا ہے اس نے مجھ پر فلاں تباہی وارد کر دی۔میں نے کہا اگر زمانہ زندہ شے ہوتی تو وہ ان کی باتوں کوسن کر ضرور ملول ہوتا۔مگر معا وہی آواز پھر بلند ہوئی اس نے کہا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زمانہ ہمارے آدمیوں کو مارتا اور تباہ کرتا ہے یا وہ خدا ہے، غلط کہتے ہیں 6۔انہیں حقیقت کا کچھ علم نہیں۔مارنا اور جلانا تو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔وہ جب تک کسی چیز کو عمر دیتا ہے وہ قائم رہتی ہے اور زمانہ اس کے ساتھ بمنزلہ ایک کیفیت کے رہتا ہے اور پھر اس نے کہا زمانہ کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک ظہور ہے۔پس تم جو اسے گالیاں دیتے ہو در حقیقت خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتے ہو۔میرا دل اس آواز والے کے اور بھی قریب ہو گیا اور میں نے محبت بھرے دل سے کہا کہ یہ آواز تو زمانے کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔زمین کے لئے رحمت زمانہ سے ہٹ کر میری نگہ کرہ ارض پر پڑی۔میں نے کہا ہماری دنیا دوسرے کروں سے کچھ کم خوبصورت نہیں بلکہ