سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 42

سيرة النبي علي 42 جلد 4 الله ہماری باتیں سن لیں۔گویا یہ بھی ایک تبلیغ کا رنگ ہو گا اور میں اس سے منع نہیں کرتا۔گو اس رنگ میں جلوس بھی باہر ہی مفید ہوتے ہیں۔یہاں تو ایک حد تک تماشا ہی نظر آتا ہے کیونکہ تبلیغی باتیں ہر وقت لوگوں کے سننے میں آتی رہتی ہیں۔مگر باوجود اس کے یہاں بھی جلوس اگر اس خیال سے نکال لیا جائے کہ جنہیں ہماری باتیں سننے کا اتفاق نہیں ہوتا وہ اس طرح سن لیں گے تو کوئی حرج نہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ جلوس کے دوران ایسے کلمات استعمال کئے جائیں جن میں رسول کریم ﷺ کے کارناموں ، آپ کے اخلاق اور آپ کی قربانیوں کا ذکر ہو۔اسی رنگ میں نظمیں بھی ہونی چاہئیں تا کہ جو لوگ نثر سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے وہ نظم سن کر ہی فائدہ حاصل کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اتنی نظمیں لکھی ہیں ان سے منشا یہی ہے کہ جولوگ نثر پڑھنا نہیں چاہتے وہ نظم پڑھ لیا کریں۔غرض ہرایسی تدبیر جو جائز ہو اور مومن کے وقار کے مطابق ہو اس کے اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان جلوسوں کو ایک حد کے اندر رکھا جائے۔مثلاً ایسے محلوں میں سے جلوس کا گزرنا بھی بے فائدہ ہے جہاں خالص اپنی جماعت کے لوگ رہتے ہیں کیونکہ یہ محض ایک رسم ہو گی۔ہاں اگر ایسی گلیوں یا محلوں میں سے جلوس کو گزارا جائے جہاں غیر احمدی رہتے ہوں اور جنہیں صحیح رنگ میں رسول کریم ہے کی زندگی کے حالات معلوم نہ ہوں یا جہاں غیر احمدی واعظ رسول کریم کی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہوں جن سے حقیقت میں آپ کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً یہ کہ آپ کا حلیہ ایسا تھا ، آنکھیں ایسی تھیں، بال ایسے تھے۔یا ہندوؤں اور کہ رسکھوں کے مکانات کے پاس سے یا بازاروں میں سے جلوس گزارا جائے جہاں اردگرد کے دیہات کے بھی بعض لوگ موجود ہوتے ہیں اور اس طرح انہیں باتیں پہنچ سکیں تو اس سے فائدہ ہوسکتا ہے۔دوسری چیز جس کی طرف میں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں اور مجھے ہمیشہ ہی حیرت صلى الله