سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 41

سيرة النبي علي 41 جلد 4 پیرا یہ میں پیش کیا گیا ہو بری چیز نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بعض دفعہ جماعت کی ترقی کے خیال کے ماتحت اس قسم کی تجویر کو پسند فرما لیا کرتے تھے کہ بعض شہروں میں جلوس نکالا جائے جس میں سب لوگوں کی ایک ہی طرز کی پگڑیاں ہوں۔پس اس قسم کے جلوس میں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر جلوس میں اس قسم کی حرکات اور اس قسم کے اقوال شامل کر لئے جائیں جو ناجائز ہوں تو پھر وہ تبلیغی جلوس نہیں رہتا اور گو وہ دلچسپی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے مگر حقیقت کے لحاظ سے وہ ناجائز ہوگا۔اور اس بات کا ثبوت کہ لوگ جلوس میں محض اس کی دلچسپی کی وجہ سے شریک ہوتے ہیں نہ کہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے اس بات سے مل سکتا ہے کہ جس طرف نظر اٹھائی جائے بچے اور عورتیں جلوس کی طرف دوڑی چلی آتی ہیں۔حالانکہ جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہو، کوئی تقریر ہو یا قرآن مجید کا درس ہو رہا ہو تو لوگ اس شوق سے نہیں آتے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جلوس میں تبلیغ مد نظر نہیں ہوتی بلکہ جلوس محض ایک تماشا ہوتا ہے۔اور اگر یہ تماشا نہیں تو لوگ اس کی طرف کیوں اس قدر متوجہ ہوتے ہیں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جلوسوں کے ضمن میں جماعت کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ اسے تماشہ نہ بنایا جائے۔اور قادیان کی جماعت کو اس میں نمونہ بننا چاہئے۔مجھے نہیں معلوم میں نے کسی خطبہ کے ذریعے اس امر کا اظہار کیا ہے یا نہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ میں ہمیشہ سے یہ نصیحت کرتا چلا آیا ہوں مگر کہنے کا فائدہ بہت کم دیکھا ہے۔میرے نزدیک صلى الله اگر تھیٹر دیکھنے کا شوق ہو تو بجائے اس کے کہ رسول کریم ع کے نام کے پیچھے تھیٹر صلى الله دیکھا جائے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایک دن تھیڑ کا مقرر کر لیں۔رسول کریم علی کی ذات کو اس حقیر چیز میں کیوں لایا جاتا ہے۔پس آئندہ کے لئے میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ بے شک اس موقع پر جلوس نکلے مگر اس میں ایسے کلمات ہوں جو تبلیغی ہوں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں پڑھی جائیں جن میں رسول کریم علے کے کارناموں کا ذکر ہے تا کہ جو لوگ ہمارے جلسہ میں نہیں آتے وہ اپنے گھروں پر ہی صلى الله