سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 43
سيرة النبي عمال 43 جلد 4 ہوئی ہے کہ قادیان کے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ ہوتا ہے۔ہمیں بے شک رسول کریم علیہ سے محبت ہے ، عشق ہے مگر باوجود اس کے ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ نہیں پہنچا سکتے۔اور اگر ہم پہنچا ئیں تو یہ رسول کریم ﷺ سے دشمنی ہوگی۔وہ چیز جس نے رسول کریم ﷺ کی آخری گھڑیوں کو تکلیف دہ بنا دیا وہ یہی تھی۔ورنہ آپ نے فرمایا تھا خدا تعالیٰ کا ایک بندہ تھا اس سے خدا نے پوچھا تم دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا ہمارے پاس آنا چاہتے ہو۔تو اس نے کہا اے خدا! میں تیرے پاس آنا چاہتا ہوں۔اب تو مجھے اپنے پاس بلا لے۔یہ رسول کریم علیہ نے اپنا حال ہی بیان فرمایا تھا مجلس میں جب آپ نے یہ بات بیان فرمائی تو لوگوں نے سمجھا کہ آپ نے ایک مثال سنائی ہے۔شاید یہودیوں میں کوئی شخص ایسا گزرا ہو یا عیسائیوں میں مگر حضرت ابو بکر یہ بات سن کر رو پڑے۔ایک صحابی کہتے ہیں لوگوں نے حضرت ابو بکر کی طرف دیکھنا شروع کیا اور کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا۔کسی بندہ سے کہا گیا تھا کہ تو دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا خدا کے پاس آنا چاہتا ہے اور اس نے کہا میں خدا کے پاس آنا چاہتا ہوں اس سے اس کا کیا بگڑا کہ یہ رونے لگ گیا۔مگر دراصل رسول کریم علیہ نے اپنا حال بتایا تھا اور خبر دی تھی کہ اب آپ دنیا میں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔اس وجہ سے حضرت ابو بکر رو پڑے۔جب رسول کریم ﷺ نے آپ کی نہ تھمنے والی رقت کو دیکھا تو فرمایا ابوبکر کا مجھ سے اس قدر تعلق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔پھر فرمایا مسجد میں جس قدر کھڑکیاں کھلتی ہیں ان میں سے سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے باقی سب بند کر دی جائیں 1۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اپنی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بلا لے۔اور گو بظاہر کام پورا نہیں ہوا تھا اور حضرت عمرؓ جیسے انسان نے بھی آپ کی وفات پر کہہ دیا تھا کہ آپ پھر واپس آئیں گے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری نظروں میں کامل طور الله