سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 471

سيرة النبي علي 471 جلد 4 ,, صحابہ کی دلجوئی اور حسِ مزاح حضرت مصلح موعود 10 مارچ 1939ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔پھر ایک کھیل یہ ہوتا ہے کہ پیچھے سے آ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔جس کی آنکھیں اس طرح بند کر دی جائیں اُس کا حق ہوتا ہے کہ پہچانے اور ہاتھ کو ہاتھ لگا کر پہچانے۔اس طرح ہاتھوں کے لمس سے پہچاننے کی مشق ہوتی ہے۔یہ کھیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی بہت بدصورت اور کر یہہ المنظر تھے ، قد چھوٹا تھا اور جسم پر بال بڑے بڑے تھے۔ایک دفعہ وہ بازار میں مزدوری کر رہے تھے ، پسینہ بہہ رہا تھا اور گرمی کی وجہ سے سخت گھبرائے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی لڑ پڑیں گے۔پیچھے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، آپ کو اُن کی حالت پر رحم آیا اور اُن کی دلجوئی کرنا چاہی اور اُن کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے جس کے معنے یہ تھے کہ بتاؤ کون ہے؟ اُنہوں نے ہاتھ پر ہاتھ پھیرا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بہت نرم تھا اس لئے وہ پہچان گئے اور مذاق کے لئے آپ کے جسم مبارک کے ساتھ اپنا پسینہ والا جسم ملنے لگے اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں نے پہچان لیا ہے 1۔“ 66 ( الفضل 28 مارچ 1939ء) 1 شمائل الترمذى باب ما جاء فى صفة مزاح رسول الله صلى الله عليه وسلم صفحه 19 20 مطبوعہ کراچی 1380ھ