سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 470

سيرة النبي علي 470 جلد 4 وو رسول کریم اللہ کے صدق کا اثر حضرت مصلح موعود 17 فروری 1939 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ معلوم ہوتا ہے کوئی موٹی عقل کا آدمی تھا جس نے اسلام پر غور کیا مگر اسلام کی صداقت اُس پر کسی طرح منکشف نہ ہوئی مگر پھر اُس کے دل میں شبہ بھی پیدا ہو جاتا کہ اگر اسلام سچا ہی ہوا تو میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چونکہ صدوق مشہور تھے اور ہر شخص اس بات کو تسلیم کرتا تھا کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے اس لئے اُس نے فیصلہ کیا کہ اس امر کا بھی آپ سے ہی فیصلہ کرائے اور اُسی شخص سے جو مدعی ہے دریافت کرے کہ کیا وہ اپنے دعوے میں سچا ہے یا نہیں؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جو شخص مدعی ہے اُسی سے وہ پوچھنے آتا ہے کہ کیا آپ واقعہ میں مدعی ہیں یا یونہی کہہ رہے ہیں؟ وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا قائل نہیں تھا اس لئے اُس نے آتے ہی کہا کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں تجھ سے ایک سوال کرتا ہوں تو خدا کی قسم کھا کر مجھے اُس کا جواب دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا جو بات تم دریافت کرنا چاہتے ہو دریافت کرو۔اُس نے کہا آپ خدا کی قسم کھا کر بتائیں کہ کیا آپ نے جو دعویٰ کیا ہے یہ خدا کے حکم کے مطابق کیا ہے اور کیا واقعہ میں خدا نے آپ کو رسول بنایا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا نے ہی رسول بنا کر بھیجا ہے۔اُس نے کہا اگر یہ بات ہے تو ہاتھ لائیے میں ابھی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔“ (الفضل 15 مارچ 1939ء)