سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 472
سيرة النبي علي 472 جلد 4 شادی بیاہ کے معاملہ میں رسول کریم علیہ کی سادگی حضرت مصلح موعود نے 15 اپریل 1939 ء کو حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی صاحبزادی امتہ اللہ بیگم صاحبہ کا پیر صلاح الدین صاحب سے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔اسلام نے نہایت سادہ طریق پر شادیاں کرنے کا حکم دیا تھا۔چنانچہ خود رسول کریم ﷺ کی اپنی لڑکی کا بیاہ دیکھو وہ کیسا سادہ تھا۔مسجد میں صحابہ جمع ہیں، رسول کریم ﷺ تشریف لاتے ہیں اور اپنی لڑکی حضرت فاطمہ کا حضرت علیؓ سے نکاح کا اعلان فرماتے ہیں۔پھر چند عورتیں لڑکی کو رخصت کر کے لانے کے لئے آپ کے گھر جاتی ہیں۔آپ نے دودھ کا پیالہ منگوایا اپنی لڑکی اور داماد کو پلایا اور دعا کر کے لڑکی کو رخصت کر دیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکیوں کو کچھ دینا ہی نہیں چاہئے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اُس وقت رسول کریم معدے کی حالت ایسی ہی تھی کہ آپ کچھ دے نہیں سکتے تھے۔در حقیقت اس میں آپ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ جیسی جیسی تمہاری حالت ہوا کرے ویسا ہی معاملہ کر لیا کرو۔اسی طرح آج کل بڑی شان و شوکت سے ولیمے کئے جاتے ہیں خواہ اپنی حیثیت الله اس قسم کے ولیموں کو برداشت نہ کر سکتی ہو۔دیکھ لو رسول کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے کیا حکم دیا ہے آپ فرماتے ہیں اَولِم وَلَوْ بِشَاةٍ 1 کہ ایک بکری ذبح کر کے ولیمہ کر دو اور لوگوں کو کھانا کھلا دو۔