سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 458
سيرة النبي عمال 458 جلد 4 ان کی محبت زمین و آسمان پر حاوی ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک موٹی بات دیکھ لو حضرت عیسی علیہ السلام پر جب ایک ابتلا کا وقت آیا تو ان کے تمام حواری بھاگ گئے بلکہ ایک نے تو آپ پر لعنت ڈالی اور کہا کہ میں نہیں جانتا مسیح کون ہے۔مگر رسول کریم پر کوئی تکلیف کا وقت نہیں آیا جب کہ صحابہ نے اپنے خون نہ بہا دیئے ہوں۔بدر کی جنگ کا جب وقت آیا تو رسول کریم ﷺ نے تمام مہاجرین اور انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اس کی ضرورت یہ پیش آئی کہ جب رسول کریم مکے مدینہ میں تشریف لائے تو انصار نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر مدینہ میں آکر کوئی دشمن حملہ کرے گا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر باہر جا کر کسی دشمن سے مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ آپ کی ضرور مدد کریں۔اس موقع پر چونکہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ ہونا تھا اس لئے آپ نے سمجھا کہ ممکن ہے انصار کا اس موقع پر اس معاہدہ کی طرف خیال چلا جائے۔پس آپ نے ان کا ارادہ معلوم کرنے کے لئے فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو اس پر مہاجرین ایک ایک کر کے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ مشورہ کیا ؟ آپ چلیں اور جنگ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔مگر جب بھی کوئی مہاجر بیٹھ جاتا رسول کریم ﷺ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔انصار اُس وقت تک خاموش تھے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ ضرور لڑنا چاہئے تو مہاجرین کہیں یہ خیال نہ کریں کہ یہ لوگ ہمارے بھائیوں اور رشتے داروں کو مروانا چاہتے ہیں۔پس وہ اُس وقت تک خاموش رہے مگر جب رسول کریم ﷺ نے بار بار فرمایا کہ لوگو! مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! شاید آپ کی مراد ہم سے ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ شاید آپ کی مراد اس معاہدہ سے ہے جو ہم نے آپ کی مدینہ کی تشریف آوری کے متعلق کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے کہا