سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 457

سيرة النبي علي 457 جلد 4 ہم اسے مانتے ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسی نبوت کے مدعی ہیں جس سے رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اس لئے وہ آپ کی نبوت کو شرک فی النبوۃ قرار دیتے ہیں اور چونکہ شرک کا لفظ ایک مسلمان کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ” بیل کے لئے سرخ چیتھڑا اس لئے شرک فی النبوۃ کے الفاظ سنتے ہی مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو! کتنا بڑا اندھیر ہے کہ احمدی شرک فی النبوۃ کرتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اسے شرک قرار دیتے ہیں وہ شرک کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔شرک ایک تو ظاہری رنگ میں ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی انسان کو یا کسی اور چیز کو سجدہ کر دینا یہ تو ہر صورت میں منع ہے۔لیکن باطنی شرک ہمیشہ نسبتی ہوتا ہے۔اگر جتنی محبت تم خدا سے کرتے ہو اتنی ہی محبت تم کسی نبی سے کرتے ہو تو تم مشرک ہو۔لیکن اگر محبتوں کے نمبر ہوں کوئی روپیہ جتنی محبت ہو، کوئی اٹھنی جتنی محبت ہو، کوئی چوٹی جتنی محبت ہو، کوئی دوئی جتنی محبت ہو اور کوئی کوڑی جتنی محبت ہو تو اس صورت میں شرک کی تعریف بالکل بدل جائے گی۔اگر خدا کی محبت تمہارے دل میں دو آنے کے برابر ہے اور تم دو یا اڑھائی آنہ محبت حضرت عیسی علیہ السلام سے یا کسی اور نبی سے کرتے ہو تو یہ شرک ہوگا لیکن اگر یہ محبت ڈیڑھ آنہ کے برابر ہے تو یہ شرک نہیں ہو گا۔اس کے مقابلہ میں اگر کسی کو حضرت عیسی علیہ السلام سے اڑھائی آنے کے برابر محبت ہے اور خدا سے اسے ایک روپیہ کے برابر محبت ہے تو باوجود اس کے کہ یہ محبت پہلے شخص کی محبت سے زیادہ ہو گی پھر بھی یہ شرک نہیں کہلائے گی۔کیونکہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی محبت اس کے دل میں پہلے شخص سے زیادہ ہے تو خدا کی محبت اس سے بھی زیادہ ہے۔شرک تب ہوتا جب دونوں محبتیں ایک مقام پر ہوتیں۔مگر جب دونوں ایک مقام پر نہیں تو شرک کس طرح ہو گیا۔اب یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان رسول کریم علیہ سے جو محبت رکھتے ہیں اس کی کسی اور نبی کے ماننے والوں میں نظیر نہیں مل سکتی۔اور جو سچے مومن ہوں ان کا دل تو اللہ تعالیٰ اتنا وسیع بنا دیتا ہے کہ صلى الله