سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 442
سيرة النبي علي 442 جلد 4 بھی اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لئے اچھی چیز ہے اور جب وہ کہتے ہیں صحت بڑی اچھی چیز ہے تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہوتے کہ میرے دشمن کی صحت اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لئے صحت بڑی اچھی چیز ہے ورنہ دشمن کے متعلق تو انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ نادار اور کمزور ہو۔اسی طرح جب لوگ عزت و رتبہ کے متمنی ہوتے ہیں تو ہر شخص کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے لئے۔پس جب دنیا کا یہ حال ہے تو خالی امن کی خواہش بھی فساد کا موجب ہوسکتی ہے کیونکہ جو لوگ بھی امن کے متمنی ہیں وہ اس رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اور ان کی قوم کو امن حاصل رہے ورنہ دشمن کے لئے وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس کے امن کو مٹا دیں۔اب اگر اس اصل کو رائج کر دیا جائے تو دنیا میں جو بھی امن قائم ہوگا وہ چند لوگوں کا امن ہوگا ساری دنیا کا نہیں ہوگا۔اور جو ساری دنیا کا امن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلا سکتا۔حقیقی امن تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ ساری دنیا کے لئے امن چاہتی ہے اور جو میرے ملک کے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ سارے ملکوں کے لئے امن چاہتی ہے۔اور اگر میں صرف اپنے لئے یا صرف اپنی قوم کے لئے یا صرف اپنے ملک کے لئے امن کا متمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔جب یہ عقیدہ دنیا میں رائج ہو جائے تبھی امن قائم ہوسکتا ہے ور نہ نہیں۔پس الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی ارادوں کو پاک وصاف کر دیا اور یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جب تک ارادے درست نہ ہوں اُس وقت تک کام بھی درست نہیں ہوسکتا۔دنیا میں اس وقت جتنے فساد اور لڑائیاں ہیں سب اسی وجہ سے ہیں کہ انسانوں کے ارادے صاف نہیں۔وہ منہ سے جو باتیں کرتے ہیں ان کے مطابق اُن کی خواہشات نہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق اُن کے اقوال و افعال نہیں۔آج سب دنیا کہتی ہے کہ لڑائی بری چیز ہے