سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 443
سيرة النبي م 443 جلد 4 لیکن اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر ہمارے خلاف کوئی لڑے تو یہ بری بات ہے لیکن اگر ان کی طرف سے جنگ کی ابتدا ہو تو یہ کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی اور یہ نقص اسی وجہ سے ہے کہ لوگوں کی نظر ایک ایسی ہستی پر نہیں جو سلام ہے۔وہ سمجھتے ہیں جہاں تک ہمارا فائدہ ہے ہم ان باتوں پر عمل کریں گے مگر جب ہمارے مفاد کے خلاف کوئی بات آئے گی تو اسے رد کر دیں گے۔پس یہی عقیدہ حقیقی امن کی طرف دنیا کو لا سکتا ہے کہ دنیا کا ایک خدا ہے جو یہ چاہتا ہے کہ سب لوگ امن سے رہیں۔جب ہمارا یہ عقیدہ ہوگا تو اُس وقت ہماری خواہشات خود غرضی پر مبنی نہیں ہوں گی بلکہ دنیا کو عام نفع پہنچانے والی ہوں گی ، اُس وقت ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ فلاں بات کا ہمیں فائدہ پہنچتا ہے یا نقصان بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کہ ساری دنیا پر اس کا کیا اثر ہے۔یوں تو دنیا ہمیشہ اپنے فائدہ کے لئے دوسروں کے امن کو برباد کرتی رہتی ہے لیکن اس عقیدہ کے ماتحت ایسا کرنے کی جرات اس میں نہیں ہوگی کیونکہ وہ سمجھے گی کہ اگر میں نے ایسا کیا تو ایک بالا ہستی مجھے کچل کر رکھ دے گی۔جیسے ایک بچہ جب دوسرے کا کھلونا چھین لیتا ہے تو وہ اپنے لئے امن حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے کا امن چھینا جاتا ہے اور ایک تو خوش ہو رہا ہوتا ہے اور دوسرا رو رہا ہوتا ہے۔ایسی حالت میں کیا تم سمجھتے ہو کہ ماں باپ یا استاد اگر وہاں موجود ہوں تو وہ اس کھیل کو جاری رہنے دیں گے؟ وہ کبھی اس کو برداشت نہیں کریں گے بلکہ جس بچہ نے کھلونا چھینا ہوگا اس سے کھلونا واپس لے کر اس کے اصل مالک کو دے دیں گے اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تب بچہ سمجھتا ہے کہ وہ امن جو دوسرے کے امن کو برباد کر کے حاصل کیا جاتا ہے وہ کبھی قائم رہنے والا نہیں اور حقیقی امن وہی ہے جو ایسی صورت میں حاصل ہو جب کہ کسی کے حق کو تلف نہ کیا گیا ہو۔غرض حقیقی امن اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ایک بالا ہستی تسلیم نہ کی جائے اور یہ عقیدہ کہ اللہ تعالی امن دینے والا ہے صرف اسلام نے ہی پیش کیا ہے اور اسی نے کہا ہے اَلْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ۔