سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 441
سيرة النبي علي 441 جلد 4 ماں باپ آتے ہیں تو ان کے سامنے ایسی پو پلی شکلیں بنا کر بیٹھ جاتے ہیں گویا وہ لڑائی جھگڑے کو جانتے ہی نہیں اس لئے کہ ماں باپ کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے امن سے رہیں۔پس در حقیقت امن اُس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیا پر ایک ایسی بالا ہستی ہو جو امن کی متمنی ہو اور جو دوسروں کو امن دینا چاہتی ہو اور ایسے قوانین نافذ کرنا چاہتی ہو جو امن دینے والے ہوں اور وہی شخص حقیقی امن دینے والا قرار پاسکتا ہے جو اس ہستی کی طرف لوگوں کو بلائے۔یہ امن دینے والی ہستی کی طرف توجہ دلانے والی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ انسان ہیں جن کے ذریعہ دنیا کو یہ معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام امن دینے والا بھی ہے۔چنانچہ سورۃ حشر میں اللہ تعالیٰ کے جو نام گنائے گئے ہیں ان میں سے ایک نام یہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلم 3 اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تو لوگوں کو توجہ دلا اُس خدا کی طرف جو بادشاہ ہے، پاک ہے اور السلام یعنی دنیا کو امن دینے والا اور تمام سلامتیوں کا سرچشمہ ہے۔یعنی جس طرح ماں باپ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے بچے لڑیں جھگڑیں یا فساد کریں بلکہ وہ امن شکن کو سزا دیتے اور امن قائم رکھنے والے بچے سے پیار کرتے ہیں اس طرح تمہارے اوپر بھی ایک خدا ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے مفاد مختلف ہیں ، تمہارے ارادے مختلف ہیں ، تمہاری ضرورتیں مختلف ہیں ، تمہاری خواہشیں مختلف ہیں اور تم بعض دفعہ جذبات میں بے قابو ہو کر امن شکن حرکات پر تیار ہو جاتے ہومگر یا درکھو خدا ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتا ، وہ سلام ہے جب تک کوئی سلامتی اختیار نہ کرے اُس وقت تک وہ اس کا محبوب نہیں ہوسکتا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ خالی امن کی خواہش امن پیدا نہیں کر دیا کرتی کیونکہ بالعموم امن کی خواہش اپنے لئے ہوتی ہے دوسروں کے لئے نہیں ہوتی۔چنانچہ جب لوگ کہتے ہیں دولت بڑی اچھی چیز ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ دشمن کی دولت