سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 436
سيرة النبي علي 436 جلد 4 دی اور میں نے کہا یہ ہوا اُدھر سے آ رہی ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رہا کرتے تھے۔پھر میں انہی خیالات میں محو ہو گیا اور اُس وقت آپ ہی آپ ایک دو شعر میری زبان پر جاری ہو گئے جن کو اُسی وقت میں نے لکھ لیا۔ان اشعار میں سادہ الفاظ میں اپنے جذبات کا میں نے اظہار کیا ہے، شاعرانہ تعلیاں نہیں۔بعد میں چونکہ میں اور کاموں میں مصروف ہو گیا اس لئے میں نے جس قدر اشعار کہے تھے اُسی قدر رہے اور اُن میں اضافہ نہ ہو سکا۔بہر حال جب وہ ہوا آئی تو میں نے کہا ہوائیں آ رہی ہیں سمندر مرے دل کو بہت گرما رہی ہیں عرب جو ہے مرے دلبر کا مسکن ہوئے خوش اُس کی لے کر آ رہی ہیں بشارت دینے سب خورد و کلاں کو اچھلتی کودتی وہ رہی ہیں جا رہی حقیقت یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد دنیا کے قلوب میں محبت نے ایک ایسا پلٹا کھایا ہے کہ وہ پہلی محبتیں جو دلوں میں پائی جاتی تھیں۔اُن کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔محبت کا مادہ ایک فطرتی مادہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی قلب میں اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ بندے کو اپنے رب کی طرف توجہ دلائے۔جب تک اصل چیز نہیں ملتی انسان درمیانی چیزوں سے اس جذ بہ کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں دیکھا کہ ایک عورت بہت ہی اضطراب اور اضطرار کے ساتھ ادھر اُدھر پھر رہی ہے وہ جہاں کوئی بچہ دیکھتی اُسے اٹھاتی، سینہ سے لگاتی اور پھر دیوانہ وار تلاش میں مصروف ہو جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی اور آپ اُسے دیکھتے رہے۔جہاں اسے کوئی بچہ نظر آتا وہ اسے اٹھاتی ، سینہ سے لگاتی اور پھر آگے کی طرف