سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 437

سيرة النبي علي 437 جلد 4 چل دیتی یہاں تک کہ اُسے ایک بچہ نظر آیا جسے اُس نے سینہ سے لگایا اور پھر وہ اسے سینہ سے چمٹائے اس میدانِ جنگ میں ایسے اطمینان سے بیٹھ گئی کہ اُسے خیال ہی نہ رہا کہ یہاں جنگ ہو رہی ہے۔وہ دنیا وَمَافِیھا سے بے خبر اپنے بچہ کو گود میں لئے میدانِ جنگ میں بیٹھی رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم نے اس عورت کو دیکھا جب تک اسے اپنا بچہ نہیں ملا تھا یہ اس کی یاد میں ہر بچہ کو اٹھاتی ، اسے پیار کرتی اور اپنے سینہ سے چمٹاتی مگر اسے تسکین نہیں ہوتی تھی لیکن جب اسے اپنا بچہ مل گیا تو اس نے اسے اپنے سینہ سے لگالیا اور یوں بیٹھ گئی کہ دنیا وَمَافِیهَا کی اسے کوئی خبر نہ رہی۔پھر آپ نے فرمایا جس طرح اس عورت کو اپنے بچہ کے ملنے سے خوشی ہوئی ہے ایسی ہی خوشی اللہ تعالیٰ کو اُس وقت ہوتی ہے جب اس کا کوئی گنہگار بندہ تو بہ کر کے اُس کی طرف رجوع کرتا ہے 1۔اس مثال سے جہاں اور کئی قسم کے سبق ملتے ہیں وہاں ایک سبق اس سے یہ بھی ملتا ہے کہ جب تک حقیقی محبوب نہیں ملتا انسان عارضی طور پر دوسرے محبوبوں سے دل لگا کر اپنے دل کی جلن دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح اللہ اور اُس کے رسول کی محبت کا جذبہ جو حقیقی ہے جب تک پیدا نہیں ہوتا انسان دوسری محبتوں سے اپنے دل کو تسکین دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب اسے حقیقی محبوب جو خدا ہے مل جاتا ہے تو اُس وقت وہ سمجھتا ہے کہ جس چیز کا نام لوگوں نے عشق مجاز رکھا ہوا ہے وہ بالکل بے حقیقت ہے۔ایک دفعہ اس خیال کے ماتحت میں نے ایک شعر اس کے متعلق بھی کہا جو یہ ہے نظر آ رہی ہے چمک وہ حسنِ ازل کی شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کے اندر خدائی نور دیکھنے کے بعد دنیا کی محبتیں ایسی سرد ہو گئی ہیں کہ ان میں کوئی لطف نہیں رہا۔جب تک محبوب حقیقی کا جلوہ