سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 435

سيرة النبي عمال 435 جلد 4 دنیا ان کی طرف توجہ نہیں کرتی۔مجھے ایک دفعہ ایک شخص نے جو آج کل کے مدعیان میں سے ہے خط لکھا جس میں اُس نے مجھے بہت کچھ کو سا اور کہا کہ میں یہ نہیں کہتا آپ میرے دعوے کی تصدیق کریں ، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ میری تعریف کریں مگر یہ کیا ہے کہ میں متواتر اشتہار شائع کر رہا ہوں اور آپ اس کی تردید بھی نہیں کرتے۔میں نے اُسے جواب دیا کہ لوگوں میں تردید کرنے کی روح کا پیدا ہو جانا بھی خدا کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے جو آپ کو میسر نہیں۔مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ایک ایسی ذات ہے کہ دنیا خواہ مخالفت کرے خواہ موافقت بہر حال وہ آپ کی طرف توجہ کرنے پر مجبور رہی ہے اور مجبور ہے۔جو مخالفت کرنے والے ہیں وہ تو مخالفانہ جذبات سے پُر ہی ہیں مگر جن کے دلوں میں محبت ہے وہ اس رنگ کی محبت ہے کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اُن کے کانوں میں پڑتا ہے اُن کے دلوں میں عجیب قسم کا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر کوئی تلاطم پیدا ہو گیا ہے۔اس تلاطم کا انداز ہ دوسرے لوگ نہیں لگا سکتے۔صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا اور آپ کو پہچانا۔مگر دیکھنے سے میری مراد صرف جسمانی طور پر دیکھنا نہیں بلکہ میری مراد ان لوگوں سے ہے جنہوں نے عقل کی آنکھوں سے آپ کو دیکھا اور عرفان کی آنکھ سے آپ کو پہچانا۔جب کبھی وہ رسول کریم ﷺ کا نام سنیں یا جب کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے پاس سے گزریں اُس وقت ان کی کیفیت بالکل اور ہو جاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ مادی دنیا سے جدا ہو کر ایک اور عالم میں آگئے ہیں۔دو سال کے قریب کی بات ہے میں کراچی گیا تو وہاں ایک دن کچھ ایسی ہوا چلی جو عرب کی طرف سے آ رہی تھی۔معا اُس ہوا نے میرے دل میں ایک حرکت پیدا کر