سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 434

سيرة النبي علي 434 جلد 4 رسول کریم ﷺ اور امن عائم علية حضرت مصلح موعود نے 11 دسمبر 1938 ء کو سیرت النبی ﷺ کے جلسہ قادیان میں درج ذیل تقریر کی۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود ایک ایسا وجود ہے جو دنیا کی نظروں کو آپ ہی آپ اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے۔دنیا میں لوگوں کی توجہ کو کھینچنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔لوگ اس کام کے لئے بڑی بڑی کوششیں کرتے ہیں مگر پھر بھی ناکام و نامراد رہتے ہیں۔بعض خیال کرتے ہیں کہ شاید دولت دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لے گی اور وہ دولتوں کے انبار لگا دیتے ہیں مگر پھر بھی دنیا کی توجہ اُن کی طرف نہیں کھنچتی۔زیادہ سے زیادہ چند چوروں، ڈاکوؤں ، حریصوں اور لالچیوں کی نگاہیں اُن کی طرف اٹھ جاتی ہیں ، چند خوشامدی ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں مگر وہ جن کی رائے کوئی وقعت رکھتی ہے ان کی طرف سے بالکل غافل اور لا پرواہ رہتے ہیں۔پھر بعض لوگ عجیب قسم کے دعوے کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ شاید اس وجہ سے لوگ ان کی طرف توجہ کریں مگر اول تو لوگ ان کی بات سنتے ہی نہیں اور اگر سنیں تو پر معنی مسکراہٹ کے ساتھ آگے گزر جاتے ہیں اور کوئی خاص توجہ ان کی طرف نہیں کرتے۔پھر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑے بڑے دعووں سے شاید لوگوں کی توجہ وہ اپنی طرف کھینچ سکیں گے۔چنانچہ وہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔رسول تو دنیا میں بہت گزرے ہیں مگر چونکہ اپنے زمانہ میں رسول بھی ایک بہت بڑی ہستی ہوتا ہے اس لئے وہ رسالت کا دعوی کر دیتے ہیں اور جب اس طرح بھی کام نہیں چلتا تو خدائی کے دعویدار بن جاتے ہیں مگر پھر بھی