سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 422

سيرة النبي علي 422 جلد 4 لحاظ سے کمی نہیں دیکھی مگر آج میں نے انہیں حکم دیا کہ قربانیاں کر دو تو ان میں سے ایک بھی نہیں اٹھا۔ام المومنین فرمانے لگیں يَا رَسُولَ الله ! آپ جانتے ہیں انہیں کیسا صدمہ ہوا ہے۔وہ اس صدمہ سے پاگل ہورہے ہیں۔آپ کسی سے بات نہ کریں اور خاموشی سے اپنی قربانی کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ نہایت ہی نیک مشورہ سنا تو آپ نے اسے پسند کیا اور خاموشی سے اپنی قربانی کے پاس گئے اور اُسے ذبح کر دیا۔اخلاص آخر اخلاص ہی ہوتا ہے، بے شک صبر کی آزمائش بڑی تلخ تھی اور ایک لمحہ کے لئے صحابہ میں ہچکچاہٹ پیدا ہوئی مگر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص جس کے اشارہ پر وہ اپنی جانیں قربان کرتے رہے ہیں، جس کی تعلیم کے ماتحت انہوں نے نہ صرف اپنی زندگیوں کو بلکہ اپنے باپوں ، اپنی ماؤں، اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو قربان کر دیا تھا آج وہ اس خاموشی سے بغیر اس کے کہ ہم میں سے کسی کو اپنی مدد کے لئے بلائے قربانی کرنے جا رہا ہے تو یک دم اُن کے دل پگھل گئے اور بے اختیار دوڑ دوڑ کر انہوں نے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کر دیے 4۔“ (الفضل 23 مارچ 1938ء ) :1 السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 صفحه 675 زیر عنوان استيثاق الرسول من امر الانصار مطبوعہ دمشق 2005 ء 2:بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى اذ تستغيثون ربكم صفحہ 668 حديث نمبر 3952 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3 بخارى كتاب الصلح باب الصلح مع المشركين صفحه 441 حدیث نمبر 2700 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 4 بخارى كتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد صفحه 449 حدیث نمبر 2731، 2732 مطبوع رياض 1999 ء الطبعة الثانية