سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 423

سيرة النبي علي 423 جلد 4 ایک غریب شخص کو رسول کریم منہ کی نصیحت 20 جون 1938 ء کو حضرت مصلح موعود نے ایک نکاح کا اعلان کرتے ہوئے کسی دوست کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مالی تنگی کی حالت میں شادی کرو تو تنگی دور ہو جاتی ہے یہ بھی ایک وسوسہ ہے۔میں نے انہیں اس کا یہ جواب دیا کہ رسول کریم و کار مطلب نہیں کہ ہر انسان جو دوسری شادی کرے اس کا مال بڑھ جاتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے بیسیوں لوگ دوسری شادی کرتے ہیں اور وہ تنگ دست ہو جاتے ہیں اور عورت کو منحوس کہنے لگ جاتے ہیں۔اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں کہ ایک شخص نے دوسری شادی کی تو وہ نوکری سے برطرف ہو گیا یا تجارت میں گھاٹا پڑ گیا یا اس قسم کی اور کوئی تکلیف اسے پہنچی۔ہمارے عام محاورہ میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے دوسری شادی کی تو اس کی حالت گر گئی۔در حقیقت اس شخص کے متعلق رسول کریم ﷺ کو کشفی طور پر یا رویا میں معلوم ہوا ہوگا کہ شادی کرنے کے بعد اس کی حالت اچھی ہو جائے گی۔چنانچہ جب وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اپنا حال عرض کیا تو آنحضرت ﷺ نے اسے دوسری شادی کرنے کے لئے ارشاد فرمایا۔جب اس نے دوسری شادی کی اور اس کی حالت نہ سدھری تو پھر رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا تو چونکہ رسول کریم ﷺ کوعلم تھا کہ اس کے لئے جو بھلائی مقدر ہے وہ شادی ہی میں ہے اس لئے آپ نے فرمایا ایک اور شادی کر لو۔اس نے تیسری شادی کر لی پھر بھی اس کی حالت اچھی نہ ہوئی۔وہ پھر رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور الله