سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 421
سيرة النبي علي 421 جلد 4 پاس آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔یہ معاہدہ ابھی لکھا ہی جارہا تھا کہ ایک مسلمان مکہ سے بھاگ کر آپ کے پاس آیا۔اُس کا جسم بوجہ ان مظالم کے جو اس کے رشتہ دار اسلام لانے کی وجہ سے اس پر کرتے تھے زخموں سے چور تھا ، اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور پاؤں میں بیڑیاں۔اُسے دیکھ کر اسلامی لشکر میں ہمدردی کا ایک زبر دست جذ بهہ پیدا ہو گیا۔دوسری طرف کفار نے مطالبہ کیا کہ اسے واپس کیا جائے۔یہ دیکھ کر مسلمان اس بات کے لئے کھڑے ہو گئے کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اسے جانے نہیں دیں گے اور اپنے ہاتھوں اسے موت کے منہ میں نہیں دھکیلیں گے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب معاہدہ ہو چکا ہے اور اسے واپس کیا جائے گا ، خدا کے رسول جھوٹ نہیں بولا کرتے۔چنانچہ آپ نے اسے واپس کئے جانے کا حکم دیا 3 اور مسلمانوں کے جذبات کو قربان کر دیا۔یہ نظارہ دیکھ کر مسلمانوں کو اتنی کوفت ہوئی کہ وہ مجنون سے ہو گئے۔چنانچہ جب معاہدہ ہو چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا قربانیاں کر دو مگر اُس وقت ایک صحابی بھی قربانی کرنے کے لئے نہیں اٹھا۔حالانکہ ان میں ابو بکرؓ بھی موجود تھے ، ان میں عمرہ بھی موجود تھے ، ان میں عثمان بھی موجود تھے، ان میں علی بھی موجود تھے۔غرض وہ سب صحابہ ان میں موجود تھے جن میں سے مسلمانوں کا کوئی فرقہ کسی کو اور کوئی کسی کو بڑا قرار دیتا ہے مگر ان میں سے ایک بھی تو کھڑا نہیں ہوا اور سب خاموش بیٹھے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ آپ نے حکم دیا مگر صحابہ نے نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ وفورِ جذبات سے مجبور ہو کر اس کی تھوڑی دیر کے لئے تعمیل نہ کی۔چونکہ یہ خفیف سی دیر بھی پہلی مثال تھی آپ اپنے خیمہ میں گئے اور اپنی ایک بیوی سے جو ساتھ تھیں فرمایا میں نے آج ایک ایسی بات دیکھی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔انہوں نے عرض کیا يَارَسُولَ الله ! کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے صحابہ میں کبھی اطاعت کے