سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 420

سيرة النبي عمال 420 جلد 4 معاہدہ سے ہے جو ہم نے اُس وقت کیا تھا جب آپ مدینہ تشریف لائے تھے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! وہ معاہدہ اُس وقت کا تھا جب ہمیں آپ کی رسالت کا مقام معلوم نہیں تھا، ہم نے اُس وقت نادانی سے یہ معاہدہ کیا مگر يَا رَسُولَ الله ! اب تو ہم آپ کے مقام کو خوب پہچان چکے ہیں اور اب سوال یہ ، نہیں کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ حضور کیا حکم دیتے ہیں۔يَا رَسُولَ الله ! چلیے جدھر چلتے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔پھر اس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهُ ! سامنے سمندر ہے اگر اس میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں 1۔یعنی کفار سے لڑائی کے وقت تو یہ خیال ہوسکتا ہے کہ شاید ہم فتح پا جائیں اور زندہ واپس آجائیں مگر ہم تو ایسی قربانی کرنے کے لئے بھی تیار ہیں جس میں موت ہی موت دکھائی دیتی ہے۔ایک اور صحابی کہتے ہیں میں سولہ لڑائیوں میں شامل ہوا۔گیارہ بارہ لڑائیوں میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا مگر باوجود اس کے کہ میں اتنا بڑا ثواب حاصل کر چکا ہوں میرا جی چاہتا ہے کہ کاش! میرے منہ سے صرف وہ فقرہ نکلتا جو اس صحابی کے منہ سے نکلا اور لڑائیوں میں میں بے شک شامل نہ ہوتا کیونکہ اس ایک فقرے کا ثواب سولہ لڑائیوں کے ثواب سے میرے نزدیک زیادہ ہے 2۔اب دیکھو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اپنی جانیں قربان کیں اور اس قربانی کے پیش کرتے وقت انہوں نے ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی مگر اس کے مقابلہ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے گئے اور کفار نے روک لیا اور آپس میں بعض شرائط ہو ئیں تو ان صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ سے بھاگ کر اور مسلمان ہوکر مسلمانوں کے