سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 419

سيرة النبي علي 419 جلد 4 رسول کریم علی کا صحابہ سے مشورہ لینا حضرت مصلح موعود 18 مارچ 1938 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔جنگ بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر مسلمانوں کو یہ بتانے کے کہ کوئی جنگ ہوگی انہیں ساتھ لے کر مدینہ سے چل پڑے۔بدر کے مقام کے قریب پہنچ کر آپ نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ ہم میں اور کفار میں ایک جنگ ہوگی۔پس بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس پر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله ! رائے کیا ہوتی ہے، چلیے اور دشمن کا مقابلہ کیجئے ہم ہر وقت لڑنے کے لئے تیار ہیں۔مگر جب مہاجر خاموش ہو جاتے تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی مہاجر کھڑا ہوتا اور وہ کہتا حضور ! ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں۔مگر جب وہ خاموش ہو جاتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مشورہ دو۔آخر انصار سمجھ گئے کہ مشورہ دو سے مراد یہ ہے کہ ہم بولیں اور اپنی رائے پیش کریں۔دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو انصار نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم مدینہ سے باہر آپ کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ، ہاں مدینہ کے اندر آپ کے ذمہ دار ہیں۔پس چونکہ اس معاہدہ کے بعد انصار پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی اور وہ مدینہ سے باہر آپ کی مدد کرنے میں آزاد تھے اس لئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ اے لوگو! مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! کیا آپ ہم سے پوچھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر اس نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! آپ کی مراد شاید اُس