سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 412
سيرة النبي عليه 412 جلد 4 طرح کرد که گویا تمہیں موت کا خیال تک نہیں۔وَاحْذَرُ حَذْرَامُرِيءٍ يَخْشَى أَنْ يَّمُوتَ غَدًا لیکن دین کے معاملہ میں اس طرح ڈرتے ڈرتے کام کرو گویا تم نے کل ہی مرجانا ہے۔یہ دو مقام ہیں جو تمہیں حاصل ہونے چاہئیں۔یعنی ایک طرف تم میں اتنی چستی اور اتنی پھرتی ہو کہ گویا تم نے کبھی مرنا ہی نہیں اور دوسری طرف اتنی خشیت ہو کہ گویا تم نے جینا ہی نہیں۔(6) بنی نوع انسان کی خیر خواہی بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے متعلق فرماتے ہیں عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فَإِن لَّمْ يَجِدُ فَلْيَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ النَّاسَ : کہ ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے اور اگر کوئی کہے کہ میں تو غریب ہوں میں کہاں سے چندہ دوں۔جیسے بعض لوگوں سے جب چندہ مانگا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم سے کیا چندہ لینا ہے ہمیں تو تم چندہ دو کیونکہ ہم غریب ہیں تو فرمایا فَلْيَعْمَلُ بِيَدِہ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ قومی کام اپنے ہاتھ سے کرے کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ بھی نہیں ہیں۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی سکتا ہے کہ میرے پاس روپے نہیں تو فرمایا اچھا اگر روپے نہیں تو اپنے ہاتھ سے کام کرو۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ صرف مالداروں پر ہی فرض نہیں کیا بلکہ غرباء کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے اور فرمایا ہے کہ صدقہ دینا ہر انسان کا کام ہے جو مال دے سکتا ہے وہ مال دے اور جو مال نہیں دے سکتا وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے۔اسی لئے تحریک جدید میں میں نے بتایا ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرو اور اگر کوئی ہاتھ بھی نہیں ہلا سکتا تو صرف دعا کرتا رہے کیونکہ اس صورت میں یہی اس کا کام سمجھا جائے گا۔(7) صفائی صاف رہنے کے متعلق فرماتے ہیں النَّظَافَةُ مِنَ الْإِيْمَانِ 8 کہ صفائی رکھنا ایمان کا جزو ہے۔پھر فرماتے ہیں اَخْرِجُوا مِنْدِيلَ الْعَمَرِ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَإِنَّهُ مَبِيْتُ الْخَبِيْثِ وَ مَجْلِسُهُ ؟ کہ وہ دستر خوان جس کو چکنائی لگ گئی ہو