سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 413

سيرة النبي علي 413 جلد 4 اسے اپنے گھروں سے نکال کر باہر پھینک دو کیونکہ وہ خبیث چیز ہے اور گندگی کا مقام ہے یعنی اس پر لکھیاں بیٹھتی ہیں، کیڑے آتے ہیں اور بیماریاں ترقی پکڑتی ہیں۔مگر تعجب ہے کہ آج کل لوگ نیکی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کپڑے کو اُس وقت تک نہ دھویا جائے جب تک کہ وہ پھٹ نہ جائے۔(8) صداقت صداقت کے متعلق فرماتے ہیں إِيَّاكُمْ وَ الْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ فِي الجِدٌ وَلَا بِالْهَزْلِ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبيَّةَ ثُمَّ لَا يَفِى لَهُ10 کہ اے لوگو! تم جھوٹ سے بچو اور یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ جھوٹ نہ بنسی میں جائز ہے نہ سنجیدگی میں۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا محض ہنسی کی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی جھوٹ قرار دیتے ہیں بلکہ آپ اس سے بھی زیادہ احتیاط سے کام لینے کی ہدایت دیتے اور فرماتے ہیں لا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يَفِى لَهُ کہ تم اپنے بچوں سے بھی جھوٹا وعدہ نہ کرو۔تم بعض دفعہ بچے سے جب وہ رورہا ہو کہتے ہو ہم تجھے ابھی مٹھائی منگا دیں گے پھر جب وہ چپ ہو جاتا ہے تو تم اُسے کوئی مٹھائی منگا کر نہیں دیتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایسا بھی مت کرو کیونکہ یہ جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔(9) کسب پھر کما کر گزارہ کرنا بھی اسلام کا جزو ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ صحابہ آئے اور انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ایک شخص رات دن عبادت میں لگا ہوا ہے، فرمائیے وہ سب سے اچھا ہوا یا نہیں ؟ انبیاء کا بھی کیسا لطیف جواب ہوتا ہے آپ نے فرمایا جب وہ رات دن عبادت میں لگا رہتا ہے تو کھاتا کہاں سے ہے؟ انہوں نے عرض کیا لوگ دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر جتنے اُسے کھانے پینے کے لئے دیتے ہیں وہ سب اس سے بہتر ہیں۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم