سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 411
سيرة النبي علي 411 جلد 4 (3) خدمت قومی خدمت قومی کے متعلق فرماتے ہیں إِنَّ صَبُرَ أَحَدِكُمْ سَاعَةً فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ اَرْبَعِينَ يَوْمًا 4 کہ اگر اسلام کی خدمت میں کوئی شخص تم میں سے ایک گھنٹہ خرچ کرتا ہے جس کا اسے کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا تو وہ چالیس دن کی عبادت سے زیادہ ثواب حاصل کرتا ہے۔(4) رزق حلال رزق حلال کے متعلق فرماتے ہیں الْعِبَادَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاءِ تِسْعَةٌ مِّنْهَا فِي طَلَبِ الْحَلَال 5 کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے دس حصے ہیں۔ایک حصہ عبادت کا تو نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہے مگر عبادت کے و حصے رزق حلال کھانا ہے۔گویا اگر تم نمازیں بھی پڑھتے ہو، روزے بھی رکھتے ہو ، حج بھی کرتے ہو، زکوۃ بھی دیتے ہو لیکن اپنی تجارت میں دھوکا بازی کرتے ہو تو تم ایک حصہ دودھ میں 9 حصے ناپا کی ملا دیتے ہو اور اپنی تمام عبادت کو ضائع کر لیتے ہو۔یا اگر تم کسی کو ایک پیسہ کی چیز دینے لگتے ہو اور تکڑی کا پلڑا ذرا سا جھکا دیتے ہو تو تم اس ذرا سی بے احتیاطی یا ذرا سی چالا کی اور ہوشیاری سے اپنے حلال مال میں وحصے گندگی کے ملا دیتے ہو اور اپنی ساری عمر کی عبادتوں کو ضائع کر لیتے ہو کیونکہ نماز ، روزہ کے احکام بجالا کر صرف دسواں حصہ حق کا ادا ہوتا ہے، باقی 9 حصے اللہ تعالیٰ کے حق کے رزق حلال کما کر ادا ہوتے ہیں۔(5) چستی اور محنت چستی اور محنت سے کام کرنے کے متعلق فرماتے ہیں اِعْمَلُ عَمَلَ امُرِيُّ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَمُوتَ اَبَدًا وَاحْذَرُ حَذْرَامُرِيُّ يَخْشَى اَنْ يَّمُوتَ غَدَاءِ کہ جب تم دنیا کے کام کرو تو یا د رکھو اسلامی تعلیم اُس وقت یہ ہے کہ ایسی محنت اور ایسی چستی سے کرو گویا تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور کبھی مرنا ہی نہیں۔یہ نہ ہو کہ تم کہو کیا کام کرنا ہے مرتو جانا ہی ہے یا کیوں خواہ مخواہ محنت کریں انجام تو فنا ہی ہے۔فرماتا ہے دنیا کے کام اس طرح نہیں بلکہ اس