سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 28
سيرة النبي علي 28 جلد 4 وو صلح حدیبیہ کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود نے 13 اکتوبر 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا:۔رسول کریم مع تبلیغ کے لئے ضرور جلوس نکالتے۔مگر آپ نے کبھی جلوس نہیں نکالا۔جلوس اور اغراض کے ماتحت نکالے جاتے ہیں۔مثلاً اگر دشمن ہم سے لڑتا ہو ، دق کرتا ہو تو فوجی رنگ میں اس پر رعب بٹھانے کے لئے ایک وقت جلوس بھی مفید ہوسکتا ہے بلکہ ایسے موقع پر جلوس کا نکالنا یا اپنی طاقت کے اظہار کے لئے کوئی طریق اختیار کرنا ثواب کا موجب ہو جاتا ہے۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ جب صلح حدیبیہ کے بعد عمرہ کے لئے تشریف لائے تو آپ نے ایک صحابی کو دیکھا کہ وہ اکثر اکثر کر چل رہا ہے۔آپ نے اس سے پوچھا تم اس طرح کیوں چلتے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! راستہ میں ملیریا کا زور رہا۔ہم میں سے بہت سوں کو بخار نے آگھیرا۔یہ خبر کافروں تک بھی پہنچ چکی ہے۔اگر ہم جھکے چلیں تو یہ خیال کریں گے کہ مسلمانوں میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں پس میں اکڑ کر چلتا ہوں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ ہم ان کے مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس صحابی کی گفتگو کو پسند کیا اور 66 فرمایا اللہ تعالیٰ کو بھی یہ بات پسند آئی ہے۔“ ( الفضل 19اکتوبر 1933ء)