سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 29
سيرة النبي علي 29 جلد 4 - دعوت الی اللہ میں رسول کریم علیہ کے مناسب حال فیصلے حضرت مصلح موعود 13 اکتوبر 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرماتے ہیں:۔مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جب تک یہ سمجھتا ہے کہ ابھی پیغام نہیں پہنچا اپنے مقام سے نہیں ہٹتا اور جب دیکھتا ہے کہ پیغام پہنچ گیا تو چلا آتا ہے کیونکہ واپس تو آخر آنا ہی ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ کا نمونہ یہی ہے۔آپ جب طائف تشریف لے گئے تو جتنی باتیں آپ سنا سکے سنا دیں۔اور جب لوگوں نے کہا کہ ہم باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تو آپ واپس تشریف لے آئے۔مگر واپسی کے وقت کفار نے آپ کے پیچھے بچے اور کتے لگا دیئے۔بچے آپ پر پتھر پھینکتے اور کتے کاٹتے۔مگر باوجود اس کے صلى الله رسول کریم یہ رستہ میں یہی دعا کرتے رہے کہ الہی ! ان پر رحم کر میری قوم نے مجھے پہچانا نہیں۔جو شخص بھی آپ کو اس حالت میں دیکھتا وہ خیال ہی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ بزدل ہیں بلکہ ہر شخص یہی کہتا کہ کیا کوہ وقار ہے۔لیکن ایسی ہی صورت میں اگر کوئی شخص دوڑتا جائے پیچھے بچے اور کتے لگے ہوئے ہوں اور وہ شور ڈالتا جائے کہ مرگیا، مرگیا، مر گیا ، تو ہر شخص کہے گا کہ یہ بزدل ہے۔پس دونوں حالتوں میں فرق ہے اور ہر شخص کی حالت بتا سکتی ہے کہ وہ بزدلی دکھا رہا ہے یا بہادری۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر ایسے مقام پر کھڑے رہنا چاہئے جہاں تشدد ہو۔اگر چہ بعض جگہ کھڑا رہنا بھی ضروری صلى الله ہوتا ہے۔مثلاً طائف سے تو رسول کریم یہ واپس آگئے مگر حنین کے موقع پر آپ نے۔