سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 27

سيرة النبي علي 27 جلد 4 رسول کریم اللہ کے حکیمانہ فیصلے علی حضرت مصلح موعود نے 13 اکتوبر 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ جب رسول کریم ع فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے تو حضرت عباس نے ابوسفیان کو پکڑ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔جس وقت اسلامی لشکر آگے چلا تو ابو سفیان کہنے لگا میں بھی دیکھوں لشکر کتنا بڑا ہے۔وہ ایک طرف کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔لشکر کا ہر حصہ اپنے اپنے پھریرے اور جھنڈے کے نیچے جا رہا تھا کہ اتنے میں ایک انصاریوں کا دستہ گھوڑے دوڑاتا ہوا پاس سے گزرا۔وہ انصاری اس شان اور تبختر 1 سے جا رہے تھے کہ ابوسفیان پوچھنے لگا یہ کون ہیں؟ سالا رلشکر نے بھی یہ سن لیا۔وہ کہنے لگا ہم کون ہیں؟ اس کا ابھی پتہ لگ جائے گا جب ہم مکہ پہنچ کر تمہارے رشتہ داروں کی کھوپڑیاں توڑیں گے۔اس نے رسول کریم ﷺ سے شکایت کی کہ آپ تو کہتے تھے کہ مکہ میں خون نہیں بہایا جائے گا لیکن یہاں ابھی سے جبکہ مکہ میں لشکر پہنچا نہیں کھوپڑیاں توڑنے کے ارادے ہو رہے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس صحابی کو معزول کر دیا اور اس کے بیٹے کو سالا رلشکر بنا دیا 2۔اس طرح آپ نے قبیلہ کے احساسات کا خیال بھی رکھ لیا اور قصور وار کو سزا بھی (الفضل 19 اکتوبر 1933 ء) 1 تبختر: فخر، تکبر۔ناز سے چلنا ( فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 342 مطبوعہ فیروز سنز لاہور 2010ء) دے دی۔2 فتح البارى بشرح البخارى جلد 8 صفحہ 8 ، 9 مطبوعہ المكتبة السلفية 2010 ء