سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 396

سيرة النبي علي 396 جلد 4 میں آگئیں۔اہلِ عرب کی یہ فطرت نہیں تھی کہ وہ عورت پر ہاتھ اٹھا ئیں مگر حضرت عمرؓ چونکہ اپنے بہنوئی پر ہاتھ اٹھا چکے تھے اس لئے روک نہ سکے اور ضرب ماردی جو بجائے اپنے بہنوئی کے ان کی بہن کو جانگی اور ان کے جسم سے خون ٹپکنے لگا۔یہ دیکھ کر ان کی بہن جوش میں آگئیں اور انہوں نے کہا عمر! پھر ہم مسلمان ہو چکے ہیں تم سے جو کچھ ہوسکتا ہے کر لو۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے ڈر کی وجہ سے مسلمان عام طور پر ان سے کھل کر گفتگو نہیں کرتے تھے۔مگر اُس دن جب انہوں نے یقین اور وثوق بھرے ہوئے یہ الفاظ سنے کہ تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور اب اسلام کو ہم ہرگز چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو گو یہ الفاظ ایک کمزور فطرت عورت کے منہ سے نکلے تھے جو عام طور پر دوسرے کی حفاظت چاہتی ہے مگر جب اس عورت نے یہ کہہ دیا کہ میں عورت ہو کر یہ کہتی ہوں کہ اب ہم اسلام پر قائم ہو چکے ہیں تم نے جو کرنا ہے کر لو تو یہ یقین اور وثوق ان کے دل کو کھا گیا اور انہوں نے کہا اچھا مجھے بھی بتاؤ کہ تم کیا سن رہے تھے۔انہوں نے کہا تم قسم کھاؤ کہ اس کی بے ادبی نہیں کرو گے۔انہوں نے یقین دلایا کہ میں بے ادبی نہیں کروں گا۔آخر انہوں نے اُس صحابی کو جسے انہوں نے مکان میں پوشیدہ کر دیا تھا اندر سے بلایا اور قرآن شریف سنانے کے لئے کہا۔انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات پڑھ کر سنائیں۔چونکہ وہ اس سے پہلے اسلام کی صداقت کے متعلق ایک یقین اور وثوق کا نظارہ دیکھ چکے تھے اور وہ یہ یقین بھری تبلیغ سن چکے تھے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر اسلام کو نہیں چھوڑیں گے اور اس قسم کی تبلیغ انہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی اس لئے قرآن کریم سنتے ہی ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہاں سے اٹھ کر سید ھے رسول کریم ﷺ کی مجلس میں صلى الله پہنچے۔بعض صحابہ اور رسول کریم ﷺ ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے اور دروازہ بند تھا کہ حضرت عمرؓ نے دستک دی۔آپ نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا عمر۔صحابہؓ نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ شخص بڑا خطرناک اور لڑا کا ہے دروازہ نہیں کھولنا چاہئے۔ایسا۔