سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 397

سيرة النبي علي 397 جلد 4 نہ ہو کہ آپ کی کوئی بے ادبی کرے۔مگر حضرت امیر حمزہ نے جو رسول کریم ﷺ کے چچا تھے اور بڑے بہادر انسان تھے کہا دروازہ کھولو ڈر کی کون سی بات ہے۔اور رسول کریم صلى الله نے بھی فرمایا کہ کھول دو۔جب صحابہ نے دروازہ کھولا تو رسول کریم ہے ان کا استقبال کرنے کے لئے دروازہ تک تشریف لے گئے اور جب حضرت عمر اندر داخل ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے عمر! کیا اب تک تمہاری ہدایت کا وقت نہیں آیا ؟ وہ اُدھر اپنی بہن کے ایمان کا نظارہ دیکھ کر آئے تھے ، ادھر رسول کریم ﷺ کا جب یہ فقرہ انہوں نے سنا تو ان کا جسم سر سے لے کر پیر تک ہل گیا۔کیونکہ اس فقرہ میں گو بظاہر دو چار لفظ ہیں مگر کیسا یقین اور وثوق ہے جو ان الفاظ سے ٹپک ٹپک کر ظاہر ہو رہا ہے کہ جس سچائی اور صداقت کو میں لے کر دنیا میں آیا ہوں اسے جلد یا بدیر دنیا مان کر رہے گی اور ہر ایک کا ایک وقت ہے جس میں اسے ہدایت ملے گی۔مگر اے عمر ! کیا تیرا وقت ابھی نہیں آیا؟ اس فقرہ کا سننا تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل سے رہی سہی میل بھی دور ہوگئی۔عمر جیسے سخت گیر انسان پر بے انتہا رقت طاری ہوگئی۔بے اختیار ان کی چیخیں نکل گئیں اور وہ کہنے لگے يَا رَسُولَ اللهِ! میں تو خادم ہونے کے لئے آیا ہوں 1۔دیکھو! یہ یقین کا اثر ہے جو حضرت عمرہ پر ظاہر ہوا اور جس نے ان کے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا۔وہ پہلے بھی وہی قرآن سنتے تھے جو انہوں نے بعد میں سنا مگر جب ان کے کانوں میں ایک عورت کی یہ آواز پہنچی کہ میں ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں مگر اسلام کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ادھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ سنا کہ جس سچائی کو میں لے کر آیا ہوں ایک دن دنیا اسے ماننے پر مجبور ہوگی وہ اسے قبول کئے بغیر رہ نہیں سکتی۔گویا واقعات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے رنگ میں پیش کیا کہ جس میں شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی تو اس یقین اور وثوق نے حضرت عمر کی حالت بالکل بدل ڈالی۔اسی طرح تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک شریر اور مفسد شخص تھا جو گو مسلمان کہلاتا تھا