سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 395
سيرة النبي علي 395 جلد 4 رسول کریم ہے کے غیر معمولی یقین کے اثرات حضرت مصلح موعود 24 دسمبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔” دل کے اندر سے نکلی ہوئی بات دوسرے کے دل پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی اور انسان خواہ کس قدر مخالف ہو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اس میں انبیاء اور اولیاء کی کوئی تخصیص نہیں۔عام مومن پر بھی جب اس قسم کا وقت آتا ہے تو اس کے ذریعہ قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی ایک مثال ہے جو اس امر کو خوب واضح کر دیتی ہے۔حضرت عمر ا سلام کے سخت دشمن تھے۔اتنے دشمن کہ وہ ایک دفعہ رسول کریم ع کو قتل کرنے کی نیت سے گھر سے چل پڑے۔مگر ابھی رستہ میں ہی تھے کہ کسی نے ان سے پوچھا عمر ! کہاں جا رہے ہو؟ وہ کہنے لگے محمد (ع) کا کام تمام کرنے چلا ہوں۔اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ وہ کہنے لگا اعتبار نہیں تو گھر جا کر دیکھ لو۔چنانچہ وہ اپنے بہنوئی کے گھر گئے ، دیکھا تو دروازہ بند تھا اور اندر انہوں نے ایک صحابی کو بلایا ہوا تھا جس سے وہ قرآن مجید سن رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے دستک دی، انہوں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر اندر داخل ہو گئے اور پوچھا کہ بتاؤ کیا ہو رہا تھا ؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں۔وہ کہنے لگے کہ کچھ کیوں نہیں کوئی بات ضرور ہے اور میں نے سنا ہے تم مسلمان ہو چکے ہو۔یہ کہتے ہوئے وہ غصہ میں آگے بڑھے تا کہ اپنے بہنوئی کو ماریں۔جب وہ مارنے لگے تو ان کی بہن اپنے خاوند کی محبت کے جوش میں ان کو بچانے کے لئے بیچ