سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 379

سيرة النبي علي 379 جلد 4 ایجاد ہے۔مگر جانور کا سچ بالکل اور قسم کا ہوتا ہے۔اس کا سچ طبعی ہوتا ہے مگر انسان کا سچ ایمانی ہوتا ہے۔اس لئے جو انسان راستباز ہوتا ہے وہ ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا کھڑا ہو جاتا ہے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے مقابلہ میں ایک کروڑ آدمی ہیں یا دس کروڑ۔وہ نظارہ دنیا کے لئے ایک حیرت انگیز نظارہ ہوتا ہے کہ ایک انسان کھڑے ہو کر ساری دنیا کو تاراج کر رہا ہوتا ہے۔مگر وہ کیا چیز ہے جو اس کے پیچھے ہوتی ہے؟ اس کے پیچھے صرف حق ہوتا ہے جس کی طاقت پر وہ ساری دنیا کو للکارتا ہے۔غرض یہ خاصیت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر پیدا کی ہے کہ وہ سچائی کا کامل نمونہ ہوتا ہے۔پھر الحق کے دوسرے معنی دنیا کو قائم رکھنے والے کے ہیں اور اس کا بہترین نمونہ بھی انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا غضب دنیا کے گناہوں کی وجہ سے بھڑ کنے والا ہوتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ کا الحق ہونا فوراً اپنے نبی کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے اور کہتا ہے اس وجود کے ہوتے ہوئے میں اس دنیا کو کیونکر تباہ کر دوں۔پس ان کا وجود دنیا کے لئے ایک حرز اور تعویذ ہوتا ہے اور ان کی وجہ سے دنیا بہت سے مصائب اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بننے سے محفوظ رہتی ہے۔اسی طرح لَا إِلهُ إِلَّا هُوَ ہے۔یہ تو حید کا مقام بھی ایسا ہے کہ جو شخص اس مقام کو دیکھ لیتا ہے خود تو حید کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔آپ کہیں گے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی توحید کا مظہر ہو جائے۔مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا آپ لوگوں کے لئے مشکل ہو بالکل قریب زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الہام نازل ہو چکا ہے که انتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِی 2 کہ اے مسیح موعود ! تیرا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو تو حید کا مجھ سے تعلق ہے۔گویا تولا الهُ إِلَّا هُوَ کا مظہر ہے اور مجھے لا إلهَ إِلَّا هُوَ پیارا ہے۔اسی طرح مجھے تو پیارا ہے۔تو توحید کے مقام کے یہ معنے ہیں کہ جس مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ اب دنیا میں میرا پیارا صرف ہو۔