سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 380
سيرة النبي علي 380 جلد 4 ایک ہی وجود ہے اس کے سوا میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔یہ وہی بات ہے جو بعض احادیث قدسیہ میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ 3 کہ صلى الله اے محمد یہ ساری دنیا تیری مٹھی میں آگئی ہے۔جدھر تیرا ہاتھ اٹھے گا اُدھر ہی میرا ہاتھ اٹھے گا۔جدھر تیری نظر ہوگی اُدھر ہی میری نظر ہوگی۔یہ تو حید کا مقام ہے جو اصل مقام تو محمد ﷺ کا ہے لیکن ظلی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ مقام صلى الله حاصل ہوا ہے۔پھر یوں بھی رسول کریم علے تو حید کے مظہر تھے کہ جیسی تو حید محمد علی ہے نے قائم کی ایسی تو حید قائم کرنا تو الگ رہا کسی دوسری قوموں نے اس رنگ میں تو حید کو سمجھا بھی نہیں۔یہ اس تفصیل کا موقع نہیں ورنہ میں بتاتا کہ دنیا نے توحید کو سمجھا ہی نہیں۔تو حید وہی ہے جو رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائی۔پھر یہ بھی توحید کا مقام تھا کہ رسول کریم ﷺ سید ولد آدم تھے یعنی دنیا کے تمام انسانوں میں سے افضل واعلیٰ ہیں اور آئندہ بھی کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنتا جو آپ کے درجہ کی بلندی کو پہنچ سکے۔پھر اس لحاظ سے بھی آپ توحید کے مقام پر تھے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اُس کی توحید سے آپ نے ایسا تعلق قائم کیا کہ دنیا وَ مَا فِيهَا آپ کی نظروں سے غائب ہو گئے اور خدا ہی خدا آپ کو نظر آنے لگ گیا۔گویا ایک آپ کا وجود تھا اور ایک خدا کا۔انسانی وجودوں میں سے واحد وجود آپ کا تھا اور خدا تو ایک ہے ہی۔اور پھر اس لحاظ سے بھی آپ تو حید کے مقام پر تھے کہ تو کل کا اعلیٰ مقام آپ کو حاصل تھا اور آپ کی نظر خدا کے سوا اور کسی کی طرف نہ اٹھتی تھی۔پھر صفت رب العلمین کا مادہ بھی خدا تعالیٰ نے انسان میں پیدا کیا اور اسے اتنا وسیع کیا ، اتنا وسیع کیا کہ ہر ماں اور ہر باپ اپنے بچہ کی ربوبیت کر رہا ہے۔پھر محمدعلی اللہ کو دیکھو تو تمہیں نظر آئے گا کہ آپ اس صفت کے کامل مظہر تھے اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو آپ کے احسان سے باہر رہ گئی ہو۔مخلوق میں سے اہم جنس حیوان ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انسانوں پر رحم کیا بلکہ آپ کے