سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 378

سيرة النبي علي 378 جلد 4 سنی تو وہ گھبرا گئے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بلا کر کہا اے میرے بھتیجے ! اب قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔میں نے ہمیشہ تیری حفاظت کی کوشش کی مگر آج میری قوم کے افراد نے مجھے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یا اپنے بھتیجے سے الگ ہو جا اور اگر الگ ہونے کے لئے تیار نہیں تو ہم آپ کی سرداری کو بھی جواب دے دیں گے، اب ہم میں برداشت کی زیادہ طاقت نہیں رہی۔ابو طالب کے لئے یہ ایک ایسا امتحان کا وقت تھا کہ باتیں کرتے کرتے انہیں رقت آگئی اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔مگر آپ نے فرمایا اے چچا ! میں آپ کے احسانات کو بھول نہیں سکتا۔میں جانتا ہوں کہ آپ نے میری خاطر بڑی بڑی قربانیاں کیں۔لیکن اے چچا ! مجھے خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔اگر آپ کو اپنی تکلیف کا خیال ہے تو اپنی پناہ واپس لے لیں۔خدا نے مجھے سچائی دی ہے جسے میں کبھی چھوڑ نہیں سکتا۔اگر وہ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اُس تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملی ہے۔یہ الفاظ کوئی معمولی الفاظ نہیں تھے۔آج بھی یورپ کے معاند مؤرخین جب رسول کریم ہے کے واقعات لکھتے ہوئے اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد صاحب جھوٹ بولنے والے نہ تھے اور انہیں اس تعلیم کی سچائی پر پورا یقین تھا جو وہ لائے تھے۔پھر ابوطالب کا کیا حال ہوا ہوگا جس نے خود محمد ﷺ کی زبان سے یہ کلمات سنے۔ابو طالب مسلمان نہ تھے مگر جس وقت انہوں نے سچائی کے متعلق محمد ﷺ کا یہ یقین دیکھا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ اے بھتیجے! مجھے الله قوم کی کوئی پرواہ نہیں میں تیرے ساتھ ہوں تو شوق سے اپنا کام کرتا چلا جا 1۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سچائی کا وہ مادہ رکھا ہے کہ سچائی پر قائم ہوتے ہوئے انسان کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔جانور بھی جھوٹ نہیں بولتا ، جھوٹ صرف انسان کی