سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 371
سيرة النبي علي 371 جلد 4 وو رسول رسول کریم علیہ کا غلاموں پر احسان الله حضرت مصلح موعود یکم اکتوبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ ایک شخص اپنے غلام کو مارنے لگا کہ اسے پیچھے کی طرف سے ایک آواز آئی کہ یہ کیا جاہلیت کی حرکت کر رہے ہو۔اُس نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول کریم ع تھے۔وہ صحابی کہتے ہیں میں اُس وقت نہایت جوش کی حالت میں تھا کیونکہ اُس غلام نے کوئی نہایت ہی بیہودہ حرکت کی تھی اور میں نے اُسے مارنے کے لئے اپنے ہاتھ میں کوڑا اٹھایا ہوا تھا اور ایک کوڑا لگا چکا تھا کہ مجھے رسول کریم ﷺ کی یہ آواز آئی کہ یہ کیا جاہلیت کی بات ہے۔وہ صحابی کہتے ہیں یہ آواز سن کر مجھے اس قدر ندامت ہوئی کہ میں نے اپنے دل میں کہا کاش ! میں اس سے الله پہلے مر چکا ہوتا اور رسول کریم ﷺ کی ہیت کی وجہ سے کوڑا میرے ہاتھ سے گر گیا۔میں نہایت شرمندہ ہو کر مجرم کی طرح آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا يَارَسُولَ اللہ! میں اسے نہیں مارتا۔آپ نے فرمایا اب کیا ہے اب تو تم اسے مار ہی چکے۔میں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! پھر میرے اس گناہ کا کیا کفارہ ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا کفارہ اس کی آزادی ہے۔چنانچہ اُس صحابی نے اُسی وقت اُس غلام سے کہہ دیا کہ آج سے میں نے تجھ کو آزاد کیا۔66 ( الفضل 8 اکتوبر 1937ء ) 1: مسلم کتاب الایمان باب صحبة الممالیک صفحہ 731 حدیث نمبر 4308 مطبوعہ ریاض 2000 الطبعة الثانية