سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 372
سيرة النبي علي 372 جلد 4 رسول کریم علیہ کے مخالفین سے خدا کا سلوک حضرت مصلح موعود نے 5 نومبر 1937 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔دیکھ لو مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی۔انہوں نے اپنا یہ مقصد قرار دے دیا کہ محمد(ﷺ) کو زک پہنچانی ہے اور آپ کو مکہ سے نکال دینا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ایک نبی اور پھر اس نبی کو جو تمام نبیوں کا سردار ہے وہ حقیقی زک نہیں پہنچا سکتے تھے لیکن اس میں کیا شک ہے کہ اس حد تک وہ اپنی کوششوں میں ضرور کامیاب ہو گئے کہ آنحضرت ﷺ کو مکہ چھوڑنا پڑا۔اور ان کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ہم کامیاب ہوگئے ہیں اور کہ ہم نے مکہ کو محمد (ﷺ) کے وجود سے (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ) پاک کر دیا ہے۔اگر چہ خدا تعالیٰ نے اُن کو جھوٹا کیا اور بتا دیا کہ جس کے مکہ سے جانے کو وہ مکہ کی پاکی کا موجب سمجھتے تھے اس کا جانا دراصل مکہ والوں کی ہلاکت کا موجب تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمُ وَاَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ا یعنی مک والے خوش ہیں کہ انہوں نے مکہ کو بزعم خود پاک کر لیا ہے لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے دو ہی طریق مقرر ہیں۔یا تو یہ کہ وہ لوگ نیک ہوں اور استغفار میں لگے رہتے ہوں اور یا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ان میں ہو اور انہیں رسول کی صحبت جسمانی حاصل ہو۔رسول کا جسمانی قرب بھی انسان کو بہت سے عذابوں سے بچا لیتا ہے۔غرض یہی قانون دنیا میں رائج ہے کہ یا تو وہ لوگ عذاب سے بچائے جاتے ہیں جو نیک ہوں اور یا پھر جو