سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 370
سيرة النبي عمال۔370 جلد 4 آپ کو اور صحابہ کو روک لیتا ہے۔صنادید عرب ایک وفد لے کر آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کعبہ کا طواف کریں۔اس سے ہمارے پر سیج (Prestige) میں فرق آتا ہے۔اس پر صلح کی گفتگو شروع ہوگئی اور گفتگو ہوتے ہوتے نماز کا وقت آگیا۔رسول کریم علے اٹھتے ہیں اور وضو کرتے ہیں مگر جب منہ میں پانی ڈال کر کلی پھینکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے کچھ اور بندے جو اپنی خوبیوں اور طاقتوں کے ذریعہ یہ ثابت کر چکے تھے کہ وہ دنیا کے عمود اور اس کی حفاظت کا ذریعہ ہیں ، دیوانہ وار آگے بڑھتے ہیں اور وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔کوئی اس پانی کو ہاتھوں میں مل لیتا ہے، کوئی منہ کو ملنے لگ جاتا ہے، کوئی سینہ پر مل لیتا ہے، کوئی پیٹھ پر ملنے لگ جاتا ہے 2۔یہ دیکھ کر کفار کی نظر حیرت سے پھٹ جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں دیکھو یہ کتنے پاگل ہیں۔یہ جو کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں، ہم دنیا کی اصلاح کے لئے قائم کئے گئے ہیں ایک انسان کی تھوک کے لئے مر رہے ہیں کون ہے جو انہیں مہذب کہہ سکے۔بے شک ان کی نگاہ میں وہ تھوک تھا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ تھوک ہی تھا مگر فرق یہ تھا کہ وہ کفار محمد ﷺ کی نسبت یہ سمجھتے تھے کہ یہ محمد (ع) کا تھوک ہے اور صحابہ یہ سمجھ کر اس تھوک ย کو اپنے ہاتھوں اور اپنے مونہوں پر ملتے تھے کہ یہ خدا کے بندے کا تھوک ہے۔“ ( الفضل 8 اکتوبر 1937ء) 1: الكهف : 111 2 بخارى كتاب الشروط باب الشروط في الجهاد صفحہ 448 حدیث نمبر 2731 مطبوعہ ریاض مارچ 1999 الطبعة الثانية