سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 368

سيرة النبي علي 368 جلد 4 رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی آپ سے دیوانہ وار محبت حضرت مصلح موعود یکم اکتو بر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔دنیا میں ایک شخص گزرا ہے جس کا نام لوگوں نے اُس کی دیوانگی کی وجہ سے مجنوں رکھ دیا ہے۔حالانکہ مجنوں اس کا نام نہیں تھا بلکہ اس کا نام قیس تھا۔لیکن بوجہ اس کے کہ وہ عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا لوگوں نے اس کا نام ہی مجنوں رکھ دیا۔حالانکہ مجنوں کے معنے عربی میں پاگل کے ہیں اور لوگ مجنوں اسی طرح کہتے تھے جس طرح کہ ہندوستانی دیوانوں کو پاگل کہتے ہیں۔اب اگر ہمارے ملک میں کوئی شخص لوگوں سے کہے کہ پاگل کی یہ بات ہے، پاگل کی وہ بات ہے تو لوگ اس کی بات سن کر حیران ہوں گے اور کہیں گے کہ کون سے پاگل کی؟ تم نام تو بتاتے نہیں۔لیکن قیس کو ایک دنیا پاگل پاگل کہہ کر بلاتی ہے اور کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ہر ایک فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ قیس کا ہی ذکر ہے۔کیونکہ اس کے متعلق یہ لفظ اتنی کثرت سے استعمال ہوا کہ اب وہ اس کا علم بن گیا ہے اور اس کا نام قرار پا گیا ہے۔غرض وہ ایک مجنون شخص تھا مگر دیکھو وہ مجنوں بھی اپنی بات میں کیسا ہوشیار تھا۔کہتے ہیں مجنوں ایک جگہ بیٹھا ہوا ایک کتے کو گود میں لئے پیار کر رہا تھا کہ پاس سے کوئی شخص گزرا اور اُس نے کہا قیس! یہ کیا دیوانگی کی حرکت کر رہے ہو! ( آجکل کے انگریزوں اور میموں کی سمجھ میں شاید یہ بات نہ آئے کہ کتے کو پیار کرنے پر اس سے حیرت سے کیوں سوال کیا کیونکہ وہ خود کتوں کو پیار کرنے کے عادی ہیں اور ہمیشہ انہیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ان سے اگر کوئی کہے کہ کتے کو کیوں پیار کر رہے ہو تو وہ شاید اُلٹا معترض کو پاگل سمجھیں گے اور کہیں گے کہ