سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 367

سيرة النبي علي 367 جلد 4 ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے لا بدی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں تباہ ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبد اللہ بن ابی بن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا اور بعض لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم ہے کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی کہ میرے ساتھ ایک لاکھ سپاہی ہیں صلى الله میں چاہتا ہوں کہ اپنی تمام جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کرلوں۔رسول کریم علی نے فرمایا اسلام میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کر لو۔وہ کہنے لگا میں بیعت کرنے کے لئے تیار تو ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو خیر اب عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبردست قوم ہے پس میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔آپ نے فرمایا میں کوئی وعدہ نہیں کرتا۔یہ خدا کا انعام ہے وہ جسے چاہے گا دے (الفضل 24 ستمبر 1937 ء) 1: بخاری کتاب المغازى باب وفد بنى حنيفة صفحه 742 حدیث نمبر 4373 مطبوعہ ریاض مارچ 1999 الطبعة الثانية