سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 369
سيرة النبي عليه 369 جلد 4 اس کا دماغ خراب ہو گیا۔لیکن بہر حال ایشیائی ایشیائی ہے اور مغربی مغربی۔ایک ایشیائی جب بھی کسی ایسے شخص کو دیکھے گا جو کتے سے پیار کر رہا ہو وہ حیرت سے اسے دیکھے گا اور وہ اسے اس کام سے روکے گا۔اس بناء پر اُس شخص نے جب مجنوں کو دیکھا کہ وہ ایک کتے کو پیار کر رہا ہے تو اُس نے کہا قیں! یہ کیا پا گلا نہ حرکت کر رہے ہو ) قیس یہ اعتراض سن کر حیرت سے بولا کیا کر رہا ہوں؟ اُس نے کہا تم ایک کتے سے پیار کر رہے ہو۔کہنے لگا کتا ؟ یہ تمہیں کتا نظر آتا ہوگا مگر مجھے تو یہ لیلیٰ کا کتا نظر آتا ہے۔گویا قیس کو حیرت ہوئی کہ وہ شخص اس قدر بیوقوف ہے کہ اُسے کتے اور لیلیٰ کے کتے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔کتا بے شک ایک گندی چیز ہے مگر قیس کے نزدیک لیلی کا کتا بالکل اور چیز تھا وہ کسی صورت میں گندہ نہیں ہو سکتا تھا۔تو جب کسی شخص سے کسی کو حقیقی عشق ہوتا ہے اسے اپنے معشوق کی ہر چیز پیاری نظر آنے لگ جاتی ہے۔اب محمد اللہ بھی ایک انسان ہی تھے اور ویسے ہی انسان تھے جیسے مکہ کے اور بہت سے لوگ۔مگر کیوں ہمارا ذرہ ذرہ آپ پر فدا ہے اور کیوں ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کرنا انتہائی سعادت اور خوش بختی سمجھتے ہیں۔اسی لئے کہ وہ لوگوں کو آدمی نظر آتے ہیں مگر ہمیں اللہ کے آدمی نظر آتے ہیں۔آپ کے آدمی ہونے سے تو ہمیں بھی انکار نہیں۔آپ خود فرماتے ہیں کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ 1 میں تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں۔مگر اس پر مزید بات یہ ہے کہ آپ ہمیں اللہ کے آدمی“ دکھائی دیتے ہیں۔لوگ ہم پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ تم ایک آدمی کے پیچھے چل رہے ہو مگر یہ درست نہیں۔بھلا ہم کوئی ایسے پاگل ہیں کہ کسی آدمی کے پیچھے چلیں۔ہم تو اللہ کے بندے کے پیچھے چل رہے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہمارا محبوب ہے اس لئے اس محبوب میں جو بھی جذب ہو گیا وہ خالی بندہ نہ رہا بلکہ اللہ کا بندہ بن گیا اور اس لئے وہ ہمارا بھی محبوب اور معشوق قرار پا گیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے طواف کے لئے جاتے ہیں۔راستہ میں کفار کا لشکر