سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 361

سيرة النبي علي 361 جلد 4 مگر کچھ نہ کر سکے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بے شک مجھے رویا ہوئی تھی مگر کیا میں نے کہا تھا کہ اس سال ہم عمرہ کریں گے؟ میں نے صرف قیاس کیا تھا اور اسی قیاس کی بنا پر آیا اور تم کو معلوم ہے کہ یہ بات شرائط میں ہے کہ ہم اگلے سال عمرہ کریں گے اور خواب پورا ہوگا۔پھر اس میں ذلت کی کوئی بات نہیں کہ جو مسلمان ہو اُسے واپس کیا جائے اور جو کافر ہوا سے اپنے ہم مذہبوں کے پاس جانے دیا جائے۔جس مسلمان کو کفار پکڑ کر رکھیں گے وہ تبلیغ ہی کرے گا اور جو مسلمان مرتد ہو جائے تم بتاؤ ہم نے اُسے رکھ کر کرنا ہی کیا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ خاموش ہو گئے۔ان کا جوش کم ہوا مگر پوری طرح فرو نہیں ہوا۔اور پھر وہ اس شخص کے پاس پہنچے جسے اللہ تعالیٰ نے صدیق کہا ہے اور جس کی نبض محمد رسول اللہ ﷺ کی نبض کے تابع چلتی تھی اور کہا ابوبکر ! کیا محمد اے خدا کے رسول ہیں؟ کیا ہمارا دین سچا ہے؟ کیا رسول اللہ علیہ نے خواب نہیں دیکھا تھا کہ ہم عمرہ کر رہے ہیں، پھر ہوا کیا؟ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا عمر! کیا محمد مصطفی علی نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم ضرور اسی سال عمرہ کریں گے؟ خواب صرف یہی ہے کہ ہم عمرہ کریں گے سوضرور کریں گے۔تب حضرت عمرہؓ کا دل صاف ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ صداقت جس طرح رسول کریم ﷺ کی زبان سے نکلی اُسی طرح ابو بکر کی زبان سے بھی نکلی 4۔تو صلح حدیبیہ بڑا بھاری امتحان تھا ، بڑی آزمائش تھی مگر صحابہ نے انتہائی اطاعت کا نمونہ دکھایا۔“ ( الفضل 4 ستمبر 1937 ء) 1 بخارى كتاب الشروط باب الشروط في الجهاد صفحه 447 حدیث نمبر 2731، 2732 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانى على يكتب شروط الصلح صفحه 1107 تا 1109 مطبوعہ دمشق 2005ء الطبعة الاولى 4،3: بخارى كتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد صفحه 447 حدیث نمبر 2732،2731 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية