سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 360

سيرة النبي علي 360 جلد 4 اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ اس سال ہمیں عمرہ کا موقع نصیب نہ ہو۔جاؤ اور اپنی قربانیوں کو ذبح کر دو۔آپ نے یہ فرمایا اور وہ صحابہ جو آپ کے ایک اشارے پر اٹھ کھڑے ہوتے اور نہایت بے تابی کے ساتھ فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی کوشش کرتے تھے ان میں سے ایک بھی نہ اٹھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔آپ کے ساتھ اُمہات المومنین میں سے ایک بی بی تھیں۔آپ نے ان سے کہا کہ آج میں نے وہ نظارہ دیکھا ہے جو نبوت کے ایام میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔میں نے باہر جا کر صحابہ سے کہا کہ اپنی قربانیاں ذبح کر دو مگر ان میں سے ایک بھی نہیں اٹھا۔انہوں نے کہا يَارَسُولَ اللهِ! آپ کسی سے بات ہی نہ کریں۔آپ سیدھے جا کر اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کردیں۔یہ زجر زبان کی زجر سے بہت سخت تھی اور یہ مشورہ نہایت ہی اچھا تھا۔چنانچہ آپ باہر آئے ، نیزہ لیا اور بغیر کسی مدد کے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کر دیئے۔جو نہی صحابہ نے یہ دیکھا معاً انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ دوڑے۔بعض رسول کریم ﷺ کی مدد کیلئے اور بعض اپنی قربانیوں کی طرف۔اور ان کی بے تابی اس قدر بڑھ گئی کہ وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے تلواروں کی نوکوں سے ایک دوسرے کو ہٹاتے تھے 3۔لیکن گوانہوں نے یہ فرمانبرداری دکھائی اور ان کا جوش بھی ٹھنڈا ہوا مگر پوری طرح نہیں ہوا۔حضرت عمر جیسا مخلص انسان بھی اپنے جوش کو نہ دبا سکا۔آپ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں جا کر بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا آپ خدا کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم خدا کی کچی جماعت نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہیں۔حضرت عمرؓ نے کہا یارسول اللہ ! آپ کو ایک رویا ہوئی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ صحیح ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ نا کامی پھر کس بات کا نتیجہ ہے؟ ہم ایمان پر ہوتے ہوئے دب گئے اور کفار کا پہلو بھاری رہا اور ہم نے ایسی ایسی شرطیں منظور کر لیں کہ اپنے ایک بھائی کو سخت مصیبت کی حالت میں دیکھا ย الله