سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 362

سيرة النبي علي 362 جلد 4 وو تمام کمالات اور انعامات کے جامع حضرت مصلح موعود نے 3 ستمبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔" پھر رسول کریم ﷺ کو دیکھو آپ چونکہ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے نوح والا معاملہ بھی کیا اور ابراہیم والا معاملہ بھی کیا۔موسی والا معاملہ بھی کیا اور داؤد اور عیسی والا معاملہ بھی کیا۔غرض سارے معاملے آپ سے ہوئے۔نوح کا معاملہ آپ سے اس طرح ہوا کہ یہود کے بعض قبائل آپ کے زمانہ میں بالکل تہ تیغ کر دئیے گئے اور جس طرح نوح کے دشمنوں میں سے ایک شخص بھی نہیں بچا تھا اسی طرح ان قبائل میں سے ایک شخص بھی نہ بچ سکا اور سب تہ تیغ ہو گئے اور تہ تیغ بھی اپنے فتویٰ کے مطابق ہوئے۔کیونکہ انہوں نے جس شخص کو فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کیا تھا اُس نے یہی فیصلہ دیا کہ جس قدر مرد ہیں وہ تہ تیغ کر دئیے جائیں۔لوگ اس پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے (نَعُوذُ بالله ) ظلم کیا۔حالانکہ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ محمد ﷺ تمام نبیوں کے کمالات کے جامع تھے اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے آپ مظہر نہ ہوں۔پس چونکہ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے بھی مظہر تھے اس لئے ضروری تھا کہ جس طرح نوح کے دشمن سب کے سب ہلاک کئے گئے اسی طرح آپ کے بعض دشمن بھی تمام کے تمام ہلاک کئے جاتے۔پھر حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی طرح آپ کو ہجرت بھی کرنی پڑی اور اس ہجرت کے زمانہ میں کچھ وقت آپ پر ایسا آیا جب آپ سیاسی طور پر حکمران تو تھے مگر ملکی طور پر نہیں۔پھر کچھ وقت حضرت داؤد کی طرح آپ پر ایسا بھی